خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 3
خطبات طاہر جلد 16 3 خطبہ جمعہ 3 /جنوری 1997ء۔کو بھی دیکھتا ہے۔تو بعینہ تمام صفات اس پیمانے پر پوری اترتی ہیں۔اگر چہ خدا میں تبدیلی نہیں مگر جس کائنات کو اس نے پیدا کیا ہے اس میں ہمہ وقت ایک تبدیلی ہے جو ادنیٰ سے اعلیٰ ہدف کی طرف ہے۔پس ربوبیت کا مضمون ہے جو اس آیت کے حوالے سے سمجھ آتا ہے اور گزرتے ہوئے وقت کے حوالے سے سمجھ آتا ہے۔پس ربوبیت جہاں بھی ایسی کائنات میں جلوہ گر ہے جہاں اختیار نہیں ہے وہاں بلاشبہ ہر آنے والا لمحہ اس مادی کائنات کا جو شعور کے ساتھ سفر نہیں کر رہی بلکہ بے اختیار قوانین کے تابع سفر کر رہی ہے وہ خدا کی ربوبیت کے عین منشاء کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔اس میں ہر آنے والا لمحہ پہلے سے بہتر ہے۔ہر چیز منظم ہو رہی ہے، مرتب ہو رہی ہے، نئی نئی شاخیں نکل رہی ہیں اس میں سے اور نشو ونما کا ایسا پھیلتا ہوا دائرہ ہے کہ جو معلوم ہوتا ہے کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتا اور واقعہ ختم نہیں ہوسکتا۔یہ وہی دائرہ ہے جس کا ذکر قرآن کریم نے آیت الکرسی میں یوں فرمایا وَ لَا يُحِيطُونَ بِشَيْ مِنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاءَ (البقرة: 256) انسانی علم خدا تعالیٰ کے علم کے دائروں پر محیط نہیں ہوسکتا ، اسے دائرے میں نہیں لے سکتا۔صرف ایک حد تک وہ علم پائے گا جس حد تک خدا اجازت دے دے کیونکہ خدا کے دائرے جو تخلیف کے دائرے ہیں وہ پھیل رہے ہیں اور اسی طرح علم بھی پھیلتا چلا جاتا ہے۔آج انسان ایک علم کے اوپر ایک دائرہ بنائے وہ سمجھے کہ میں نے اس پر قابو پالیا اس دائرے کو تو ڑ کر علم ضرور باہر نکل جائے گا کیونکہ ہر آنے والا دن اس علم میں وسعت پیدا کرے گا ،نئی شاخیں کھولے گا وہ اس برتن میں سماہی نہیں سکتا پھر۔پس یہ وہ ربوبیت کا مضمون ہے جو ہر آنے والے لمحے کو پہلے سے بہتر دکھا رہا ہے مگر آنحضرت مے کے حوالے سے اس میں ایک اور شان پیدا ہو جاتی ہے جو انسان اور دیگر مخلوقات کا فرق دکھاتی ہے۔دیگر مخلوقات میں جو آگے بڑھنے کا مضمون ہے وہ اپنی کسی خوبی، اپنے فیصلے سے تعلق نہیں رکھتا اللہ تعالیٰ کی ایک جاری تقدیر سے تعلق رکھتا ہے جو ہمیں ایک لمبے عرصے تک درجہ بدرجہ ترقی دے کر یہ سمجھاتا ہے کہ ہمارا خدا ہمیشہ آگے بڑھانے والا ہے اور جب وہاں جا کر کھڑا کیا جہاں انسانیت شروع ہوتی ہے اور یہ قانون نئے بنا کر ہمارے سامنے رکھے کہ اب تم چاہو تو نیچے کی طرف دوڑ پڑو، چاہوتو اوپر کی طرف جاؤاب تمہیں اختیار ہے تو جہاں اختیار دیا گیا وہاں اکثر انسان نیچے کی طرف دوڑے ہیں ، اوپر کی طرف نہیں گئے اور اَسْفَلَ سَفِلِينَ (التين : 6)