خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 791
خطبات طاہر جلد 16 791 خطبہ جمعہ 24 /اکتوبر 1997ء اس میں لفظ أحدث يُحدث“ کا مضمون پڑھتے تو صاف بات کھل جاتی کہ ہر وہ حرکت جو نامناسب ہو ، جو خدا کی طرف سے توجہ پھیر دے وہ احداث ہے اور گناہ بھی اس میں شامل ہیں گناہ کے خیالات بھی اس میں شامل ہیں۔پس يُحدِث کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر وہ عبادت کے انتظار میں مسجد میں بیٹھا ہوا ہے مگر بعض ایسی باتیں کرتا ہے جو احداث کا مضمون رکھتی ہیں۔اگر وہ باتیں شروع کر دیتا ہے کسی سے اور اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں کے ذکر الہی میں مخل ہو جاتا ہے تو اس کے حق میں فرشتوں کی یہ دعائیں کیوں قبول ہوں گی کہ اے اللہ اس کو بخش دے، اے اللہ اس کی توبہ قبول کر۔تو يحدث کا جو اصل مضمون عربی لغت سے ملتا ہے وہ یہ مضمون ہے جس نے سارا مسئلہ حل کر دیا ورنہ ایک بہت ہی عجیب سی بات دکھائی دیتی کہ مسجد میں لوگ نعوذ بالله من ذلک ہوائیں چھوڑ رہے ہیں اور اسی وقت ان کے متعلق دعائیں ختم ہو گئیں۔ہوائیں مسجد میں چھوڑ نا بھی احداث کا ایک حصہ ہے یعنی انسان کا فرض ہے کہ مسجد میں کوئی بد بو نہ پھیلائے جس سے لوگوں کو تکلیف پہنچے۔اگر اسے اٹھ کے باہر جانا ہے تو اسے باہر جانا چاہئے لیکن يُحدث کا یہ مطلب نہیں ہے جو عام ترجمے میں ملتا ہے۔يُحدث کا مطلب ہے وہ ایسی نامناسب بات کرے جو اسے اللہ سے دور کرنے والی ہو۔جب وہ ایسی نامناسب بات کرے گا تو فرشتوں کی دعائیں اس کے حق میں مقبول ہوئی بند ہو جائیں گی۔پس مسجد میں آنے والوں کے لئے میں اسی مضمون پر اب اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں کہ اپنے مسجد میں آنے کا حساب کیا کریں اور کوشش کریں کہ آپ کا مسجد میں آنا آپ کے لئے ہمیشہ درجات کی بلندی کا موجب بنار ہے۔مسجد میں بیٹھنا بھی درجات کی بلندی کا موجب بنے۔مسجد میں بیٹھ کر ایسی باتیں نہ کیا کریں کہ بظاہر نماز کا انتظار ہو رہا ہے لیکن ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کی باتیں ہورہی ہیں یا اپنے مشاغل کی باتیں ہو رہی ہیں جو سارا ثواب ضائع کر دیں گی۔پس جو اعلیٰ درجے کے مضامین حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے بیان فرمائے ہیں ان پر غور کر کے ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین