خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 790 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 790

خطبات طاہر جلد 16 790 خطبہ جمعہ 24 اکتوبر 1997ء شامل نہیں ہو گا تو بالکل ہی بے حیاء ہوگا۔جب نماز پڑھتے دیکھ رہا ہے لوگوں کو تو پھر وہ کہے گا چلونماز پڑھ کر چلے جاتے ہیں۔مگر اس کی اگر اتنی ہی نمازیں ہوں ساری عمر کی کسی اور غرض سے مسجد میں پہنچا ہواور وہاں نماز پڑھ لی ہو اور پھر کبھی بھی نہ آئے تو اس کو فکر کرنی چاہئے۔ایسے لوگوں کو میری نصیحت ہے کہ کبھی کبھی اس عادت کو توڑنے کی خاطر خالصہ نماز کی خاطر مسجد آیا کریں اور دوسرا یہ کہ ان کو ہم نے پہچانا ہے اس مسجد میں ، ان دعوت ولیمہ میں شامل ہونے والوں کی نمازوں کو پہچانا ہوتو ان کے اردگرد اگر کوئی مسجد ہو وہاں سے پہچانیں۔اگر دو قدم پہ مسجد ہو اور وہاں نہ جائیں اور ولیمہ کھانے کے لئے ہیں میل آجائیں اور پھر باجماعت نماز پڑھ کے، اپنے آپ کو نمازی سمجھ کے سراٹھا کے چلیں تو یہ بہت بڑی بے وقوفی ہے۔آنحضرت یہ کی ذہانت کی لطافت دیکھیں کوئی پر دہ باقی نہیں چھوڑا۔ہر مشکل مضمون سے پردہ اٹھا کے ہمیں اپنے چہرے دکھا دئے ہیں۔نماز کی نیت سے مسجد کی طرف آئے یعنی نماز کے سوا کوئی چیز اسے مسجد نہ لائے، نہ شادی نہ بیاہ نہ کوئی اور مقصد ، نہ دینی میٹنگ۔نماز ہی کی خاطر سے آئے تو ایسا شخص قدم نہیں اٹھا تا مگر اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند ہوتا ہے۔یہ وہ شخص ہے جس کا مسجد کی طرف آنا ہر قدم جو اسے مسجد کے قریب کرتا ہے اس کے درجے بڑھاتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ مسجد میں جا پہنچتا ہے۔پھر جب تک وہ نماز کی خاطر مسجد میں بیٹھا رہتا ہے گویا نماز ہی میں مصروف سمجھا جاتا ہے۔کئی دفعہ بعض مجبوریوں سے نماز با جماعت دیر سے پڑھانی پڑتی ہے۔وہ لوگ جو مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کا وقت ضائع ہورہا ہے۔اگر نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں تو وہ اللہ کے نزدیک گویا نماز میں مصروف ہیں اور بظا ہر عبادت نہیں کر رہے مگر ان کا تمام عرصہ مسجد میں موجود رہنا ان کے حق میں ایک عبادت کے طور پر لکھا جاتا ہے اور فرشتے اس پر درود بھیجتے ہیں اور کہتے ہیں اے اللہ اس پر رحم کر ، اے اللہ اس کو بخش دے، اس کی تو بہ کو قبول کر۔یہ دعائیں اس وقت تک ہوتی رہتی ہیں جب تک وہ ، آگے ترجمہ غلط کیا ہوا ہے اور یہ مضمون میں آپ کے سامنے کھول کے رکھنا چاہتا ہوں کہ يُحدِث کے الفاظ کا ترجمہ صرف وضو تو ڑ نا کر دیا گیا، یہ بالکل غلط ہے۔اس مضمون سے اس کا کوئی تعلق ہی نہیں۔اس وقت تک وہ اس کے حق میں دعائیں قبول ہوتی ہیں جب تک وضو نہ ٹوٹ جائے۔اس بے چارے کا کیا قصور۔اگر اتفاق سے وضو ٹوٹ جائے تو دعائیں مقبول ہونی بند ہو گئیں؟۔ترجمہ کرنے والے یہ بات سوچتے نہیں اگر وہ کوئی اچھی سی ڈکشنری اٹھاتے