خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 787
خطبات طاہر جلد 16 787 خطبہ جمعہ 24 اکتوبر 1997ء الله صلى الله کون کون سے عزیز وطن میں ہیں۔اب یہ بھی ایک عجیب اسلامی آداب کی تعلیم ہے۔جو بڑی لطافت سے دی گئی ہے۔آنحضرت ﷺ سے ان کو اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں پڑی اور وہ اجازت مانگنا ان کے دل پر گراں گزرتا ہوگا۔مگر چونکہ انہوں نے اجازت نہیں مانگی اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو نظر انداز نہیں فرمایا کہ وہ تکلیف اٹھا رہے ہیں اور اب واپس جانے کی نیت ہوگی۔تو یہ بات یوں بنتی ہے کہ آنحضرت یہ آنے والوں پر نظر رکھا کرتے تھے اور دیکھتے رہتے تھے کہ کب تک یہ شرح کہ مو صدر کے ساتھ ، خوشی کے ساتھ ٹھہر سکتا ہے اور کب کچھ تکلیف کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔پس وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خود محسوس فرمایا کہ اب ہم شاید وطن کو لوٹنا چاہتے ہیں تو آپ نے اور رنگ میں بات پوچھی۔یہ نہیں کہا کہ تم واپس جانا چاہتے ہو۔فرمایا کون کون سے عزیز وطن میں ہیں، پیچھے کن کو چھوڑ آئے ہو۔ہم نے حضور کو بتایا تو آپ نے فرمایا تم لوگ اپنے اہل وعیال کے پاس جاؤ۔اب یہ اجازت کا انداز بھی کیسا لطیف ہے۔حیرت انگیز ان کو ان کا بہانہ دکھا دیا جو ان کے لئے ایک وجہ جواز بنتی تھی۔رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کے جانا ان کے لئے شرم کا موجب نہ رہا کیونکہ خواہ مجبور بھی تھے مگر چھوڑ کر جانا ایک ان کے دل پر کوفت تھی۔تو آپ نے ان کا جانا کتنا آسان فرما دیا۔فرمایا ان کا بھی تو حق ہے جن کو پیچھے چھوڑ آئے ہو اس لئے واپس جاؤ اور یہ یہ باتیں جو تم نے مجھ سے سیکھی ہیں ان کو جا کے سکھاؤ۔انہیں دینی احکام سکھاؤ اور انہیں ان پر عمل کرنے کے لئے کہو اور جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے اسی طرح نماز پڑھتے رہو۔یہ حقیقی نماز ہے اس طرح نماز کا حق ادا کیا جاتا ہے۔جب نماز کا وقت ہو تم میں سے کوئی اذان کہے اور جو تم میں سے بڑی عمر کا ہے وہ نماز پڑھائے۔یہ جو لفظ بڑی عمر کا ہے اس نے مجھے متعجب کیا کیونکہ دوسری احادیث سے پتا چلتا ہے کہ خواہ چھوٹی عمر کا ہو جسے قرآن کریم زیادہ آتا ہو وہ نماز پڑھائے اور دوسرے یہ سارے ہم عمر ہی تھے۔صاف راوی بیان کر رہا ہے کہ ہم ایک جیسی عمر کے تھے تو یہ حساب تو نہیں ہوگا کہ اس زمانے کی پیدائش کا حساب کریں کہ کون چند دن پہلے پیدا ہوا اور کون چند دن بعد پیدا ہوا لیکن ساتھ ہی میرا مسئلہ حل ہو گیا۔راوی ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مالک بن حویرث نے مجھے یہ باتیں بتائی تھیں لیکن ان میں سے کئی باتیں بھول گیا ہوں۔اب راوی کا تقویٰ ہمارے کام آ گیا۔ان بھولی ہوئی باتوں میں یہ بھی تھی کہ رسول الله بہ قرآن کا علم زیادہ رکھنے والے کو امام بننے کا اہل قرار دیتے ہیں۔یہاں تک کہ بعض صلى الله