خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 788 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 788

خطبات طاہر جلد 16 788 خطبہ جمعہ 24 اکتوبر 1997ء دفعہ چھوٹا بچہ بھی بعض بڑی عمر کے صحابہ کو نماز پڑھایا کرتا تھا کیونکہ اس کو قرآن کریم زیادہ آتا تھا۔پس یہ حدیثوں کے صحیح ہونے اور ان کے الفاظ کی صحت کے متعلق راویوں کی احتیاط کرنے کا ایک نمونہ ہے۔ہر وہ حدیث جو اعلیٰ درجے کے مضامین قرآن کی مطابقت کے ساتھ رکھتی ہے اس کے متعلق ہرگز شک کی ضرورت نہیں کہ کوئی راوی کمزور ہے یا نہیں اور اگر مطابقت نہیں رکھتی تو کتنے ہی پکے راوی ہوں وہ حدیث وہاں مشکوک ہو جائے گی جہاں قرآن کے واضح احکامات سے منافی باتیں کر رہی ہوگی اور یہ ایک حدیث ہے، جو غالبا مجھے وقت مل جائے گا ، پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کچھ اقتباس ہیں اگر ان کا وقت نہ بھی ملا تو آئندہ پھر کسی وقت ان اقتباسات کو میں دوبارہ آپ کے سامنے پیش کر دوں گا۔اس سے نماز کا مضمون پھر تازہ ہو جائے گا اور ایک اور خطبہ اسی موضوع پر دینا ہوگا۔بخارى كتاب الصلواة فضل صلواة الجماعة سے یہ روایت لی گئی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا انسان کا جماعت سے نماز پڑھنا بازار یا گھر میں نماز پڑھنے سے ہیں گنا سے بھی کچھ زیادہ ثواب کا موجب ہے۔اب اس حدیث کو میں نے اس حدیث کے بالکل ساتھ رکھ دیا ہے جس میں راوی نے اقرار کیا ہے کہ میں بھول گیا ہوں۔یہاں راوی نے اقرار نہیں کیا لیکن یہ بیان دوسرے بیانات سے متضاد ہے۔یعنی لفظ ہیں گنا، اٹھائیس گنا، سو گنا، ہزار گنا ، اتنے بکروں کی قربانی ، اتنے جانوروں کی قربانی یہ سارے وہ مضامین ہیں جو بعد کے آنے والے راویوں کو اچھے لگا کرتے تھے اور وہ اپنی طرف سے بیچ میں باتیں صلى الله ڈالا کرتے تھے۔اس لئے اب میں کہہ سکتا ہوں کہ اپنی طرف سے ڈالتے تھے کہ رسول اللہ یہ کی ذات میں تو تضاد ہی کوئی نہیں اور نماز با جماعت کو جہاں فرض ہوتی ہے وہاں فرض ہی قرار دیتے ہیں۔ایک فرض کے گرنے سے ساری نمازیں گر جاتی ہیں۔اس لئے نماز باجماعت کے مقابل پر ایسے لوگوں کو نہیں سمجھایا جا سکتا کہ ان کے اکیلے نماز پڑھنے سے باجماعت نماز زیادہ اہم ہے کیونکہ اگر وہ باجماعت پڑھ سکتے ہیں تو اکیلا نماز پڑھنا نماز ہی نہیں ہے۔یہ اندرونی تضاد ہے جو آنحضرت علی کے دوسرے ارشادات کی روشنی میں ہمیں دکھائی دینے لگتا ہے۔بڑی قطعیت کے ساتھ دوسری حدیثیں ہیں جو بتارہی ہیں کہ جہاں نماز با جماعت قائم کی جاسکتی ہو وہاں اکیلی نماز ہوتی ہی نہیں سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری حائل ہو۔پس معلوم ہوتا ہے کچھ حصہ راوی بھول گیا ہے۔آنحضرت ﷺ کی