خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 785 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 785

خطبات طاہر جلد 16 785 خطبہ جمعہ 24 اکتوبر 1997ء بے انتہا ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔تو ایسی حالت میں وضو کرنا جب کہ طبیعت پر گراں گزرے۔اگر طبیعت پر گراں نہ گزرے تو انسان وضو کرتا ہی ہے وہ بھی ایک نیکی ہے۔مگر وہ نیکی جو اللہ تعالیٰ کو بطور خاص پسند ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی خاطر اپنی ناپسندیدہ باتیں اختیار کر لینا جو خدا کے ہاں پسندیدہ ہیں اور مسجد میں دور سے چل کر آنا۔اب یہ مطلب تو نہیں کہ آدمی مسجد سے باہر جائے اور دور جا کر پھر واپس صلى الله آئے۔اس لئے کہ آنحضرت میلہ کا گھر تو مسجد کے ساتھ تھا اور نزدیک سے آتے تھے مگر اگر بہت دور بھی ہوتا تب بھی آنا ہی تھا۔تو اس لئے رجحان کی بات ہو رہی ہے۔دور سے چل کر آنا، یعنی وہ شخص جس کو نماز اتنی پیاری ہو کہ اگر دور سے بھی آنا پڑے تو وہ نماز کے لئے حاضر ہو جائے گا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ( صحیح مسلم کتاب الطهارة - باب فضل اسباغ الوضوء على المكاره صفحه : 488) اب ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہ رسول اللہ کی عادت تھی۔پس وہ جو دور سے آنے کا مفہوم میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں وہ اس دوسری بات نے کھول دیا ہے۔دل اٹکا ہوا ہے جہاں بھی کہیں ہو گا انسان وا پس وہیں پہنچے گا، یہ بھی ایک قسم کا رباط ہے، یعنی سرحد پر چھاؤنی قائم کرنا اور یہ بات آپ نے یعنی آنحضرت ﷺ نے دودفعہ دہرائی۔الله رباط کیا ہوتا ہے؟ آپ میں سے اکثر کو تو علم ہونا چاہئے رباط کے متعلق میں پہلے بھی کئی خطبوں میں ذکر کر چکا ہوں۔اب میں دہراتا ہوں تا کہ رباط کا مضمون اچھی طرح سمجھ آجائے۔قرآن کریم نے مومنوں کی جماعت کی تعریف میں فرمایا ہے کہ وہ سرحد پر گھوڑے باندھتے ہیں۔سرحد پر گھوڑے اس لئے باندھے جاتے ہیں تا کہ دشمن کو سرحد میں داخل ہونے سے پہلے مار بھگایا جائے اور لڑائی دشمن کی سرزمین میں ہو اپنی سرزمین میں نہ ہو کیونکہ سرحد پر بندھے ہوئے گھوڑے دور سے آتے ہوئے دشمن کو دیکھ لیتے ہیں اور ان کی طرف لپکتے ہیں، انتظار نہیں کرتے کہ وہ اپنی سرحد میں داخل ہو جائیں۔یہ وہ دفاع کی ایک تکنیک، ایک دفاع کی ایسی حکمت عملی ہے جسے آج بھی نئی دنیا استعمال کر رہی ہے۔تمام امریکن اور روسی اور اسی طرح دوسری بڑی طاقتوں کے جو دفاعی نظام ہیں ان میں دشمن پر نگاہ رکھنا کہ وہ ہماری سرحد کے قریب تو نہیں آرہا یعنی ایسی حرکتیں تو نہیں کر رہا کہ جس کے نتیجے میں ہم پر حملہ ہوسکتا ہو اس صورت میں جب وہ ان کا نظام پہچان لیتا ہے کہ دشمن قریب آ رہا ہے تو پھر یہ انتظار نہیں کیا کرتے کہ وہ داخل ہو جائے پھر ہمیشہ اسے باہر نکل کر دوسری سرزمین میں پکڑتے ہیں