خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 784
خطبات طاہر جلد 16 784 خطبہ جمعہ 24 اکتوبر 1997ء صلى الله جلی ہیں۔شرک خفی یہ مضامین ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ انسان کو جو خود شرک میں مبتلا ہے اس کو بھی نہیں پتا چلتا کہ وہ شرک کر رہا ہے اس کو شرک خفی کہتے ہیں، جو چھپ گیا۔پس ہر قسم کے شرک کو چھوڑ نا ضروری ہے خواہ وہ ظاہر ہو، خواہ وہ چھپا ہوا ہو کیونکہ شرک کے ساتھ انسان کی روحانی زندگی بالکل تباہ ہو جاتی ہے، نہ وہ اس دنیا کے قابل رہتا ہے نہ آخرت کے قابل رہتا ہے۔حضرت جابر نے مختصر حدیث بیان فرمائی دو چار لفظوں کے اندر لیکن بہت گہری حقیقت سے ہمیں روشناس کرا دیا۔اب میں ایک اور حدیث بخاری کی کتاب الجہاد سے پیش کرتا ہوں جو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے روایت کی۔کہتے ہیں میں نے آنحضرت مہینہ سے پوچھا، کون ساعمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا وقت پر نماز پڑھنا، یعنی نماز کے لئے جو وقت مقرر ہے اس محل، اس وقت کے او پر نماز پڑھنا خدا تعالیٰ کو پسند ہے، میں نے عرض کیا کہ اس کے بعد؟ آپ نے فرمایا ماں باپ سے نیک سلوک کرنا ، پہلے خدا کا حق ہے پھر ماں باپ کا حق ہے اور خدا کے حق سے اگر ماں باپ کا حق بظاہر مجروح ہوتا ہوتو خدا کا حق ادا کر نالازم ہے۔ماں باپ سے باوجود اس کے کہ بے انتہا نیکی کی تعلیم دی گئی ہے اس وقت روگردانی کرنا اس لئے کہ اللہ کا حق اپنی طرف بلا رہا ہے یہ گناہ نہیں ہے بلکہ نیکی ہے۔فرمایا نماز وقت پر ادا کرنا، ماں باپ سے نیک سلوک کرنا۔پھر میں نے عرض کیا اس کے بعد کون سا؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے رستے میں جہاد کرنا یعنی خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے پوری پوری کوشش کرنا۔صحیح مسلم جلد دوم كتاب الطهارة باب تبلغ العلية حيث يبلغ الوضوء صفحه : 26 میں نماز سے متعلق ایک حدیث ان الفاظ میں درج ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالی گناہ مٹادیتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺہ ضرور بتائیے۔آپ نے فرمایا! ( سردی وغیرہ کی وجہ سے مثلاً ) دل نہ چاہنے کے باوجود خوب اچھی طرح وضو کرنا۔یہ جو دل نہ چاہنا ہے اس میں سردی کا مضمون بھی داخل ہے اور بھی بہت سے مضامین داخل ہیں۔کئی لوگوں کو سستی ہوتی ہے، کئی دفعہ زیادہ گرم پانی سے وضو کر نا پڑتا ہے جیسا کہ پرانے زمانے میں فریج وغیرہ نہیں ہوا کرتے تھے تو باہر گرم ٹوٹیوں سے بعض دفعہ وضو کر نا پڑتا تھا تو کافی گرم پانی ہوتا تھا اور بعض دفعہ سردیوں میں