خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 783 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 783

خطبات طاہر جلد 16 783 خطبہ جمعہ 24 اکتوبر 1997ء تھے۔جہاں تک میں نے سوچا ہے مجھے یہ لگتا ہے مگر ضروری نہیں ، ہوسکتا ہے آنحضور کے الفاظ کچھ اس سے مختلف ہوں۔اس وجہ سے اختلاف روایت کی ہمیں سمجھ آجاتی ہے۔تو اس پر آپ غور کر لیں کہ جو پانی کے چھینٹے دئے جارہے ہیں یہ بتارہے ہیں کہ دونوں میاں بیوی بنیادی طور پر نیک ہیں، چاہتے ہیں کہ ان کو اٹھایا جائے اور نیند کی غفلت حائل ہو جاتی ہے اور دونوں کے درجے الگ الگ ہیں۔ایک تہجد گزار ہے اور دوسرا عام نمازی ہے اس کاBehaviour، اس کا سلوک ایک عام نمازی جیسا ہے۔تو نماز قائم کرنے کے جو مختلف مراحل ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض اپنے ساتھیوں کی نماز بھی کھڑی کرو اور اس نماز کو کھڑا کرنے میں زبردستی نہیں ہے مگر ماحول کو اس طریق پر خطرات سے بچایا جا سکتا ہے۔جب ایک بیوی خاوند کی نماز میں مددگار بن جائے ، خاوند بیوی کی نماز میں مددگار بن جائے تو ظاہر بات ہے کہ ان لوگوں کی اولاد پر اس کا نیک اثر پڑے گا اور نماز سارے ماحول میں قائم ہوگی۔ایک دوسری حدیث صحیح مسلم جلد اول کتاب الايــمــان بــاب بــان اطلاق اسم الكفر على من ترك الصلوۃ صفحہ : 75 سے لی گئی ہے۔حضرت جابرروایت کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نماز کو چھوڑنا انسان کو شرک اور کفر کے قریب کر دیتا ہے یہ مضمون میں نے پچھلی دفعہ بھی بیان کیا تھا کہ نماز کو چھوڑنے والا شرک کی وجہ سے نماز کو چھوڑتا ہے اور بسا اوقات اسے معلوم نہیں ہوتا کیونکہ نماز اپنی ذات میں ایک ایسا اعلیٰ درجے کا روحانی مائدہ ہے جس میں لذت ہے اور اگر اس کے برعکس کوئی اور مائدہ زیادہ لذت والا نظر آئے تب انسان اس مائدہ کو یعنی اس دستر خوان کو چھوڑے گا۔تو شرک کا مضمون تو پہلے ہی موجود ہے۔نماز چھوڑ کر شرک میں مبتلا نہیں ہوتا، نماز اس لئے چھوڑتا ہے کہ مشرک ہے یعنی خدا تعالیٰ کے قرب کے مقابل پر غیر اللہ کے قرب کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔اس مضمون پر جب علماء غور کرتے ہیں تو انہوں نے شرک کی مختلف قسمیں بنا رکھی ہیں۔بعض کو کہتے ہیں شرک جلی اور بعض قسموں کو کہتے ہیں شرک خفی۔جلی وہ ہے جو انسان کھلم کھلا شرک کرتا ہے۔خدا کے سوا معبود ہیں، بتوں کی پرستش، چاند سورج کو خدا سمجھنا جیسا کہ آج کل بھی بہت سے مذاہب میں یہ باتیں پائی جاتی ہیں یعنی انسان کو خدا کا شریک بنالینا، قبروں کی پوجا کرنا یہ سب شرک