خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 782
خطبات طاہر جلد 16 782 خطبہ جمعہ 24 اکتوبر 1997ء سے لی گئی ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ رحم کرے اس شخص پر جو رات کو اٹھے نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو اٹھائے۔اگر وہ اٹھنے میں پس و پیش کرے تو اس کے منہ پر پانی چھڑ کے تا کہ وہ اٹھ کھڑی ہو۔اسی طرح اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس کی بیوی رات کو اٹھے، نماز پڑھے اور اپنے میاں کو جگائے۔اگر اس نے اٹھنے میں پس و پیش کیا تو اس کے چہرے پر پانی چھڑ کے تا کہ وہ اٹھ کھڑا ہو۔اب ان سادہ سے الفاظ میں بعض باتیں مضمر ہیں جن کو کھولنا ضروری ہے۔پہلی بات آنحضرت ﷺ نے فرمائی ہے کہ نماز پڑھے اور پھر اٹھائے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تہجد ادا کرے جس کے لئے ضروری نہیں کہ اس کا ساتھی بھی اٹھایا جائے اور اگر وہ اپنے ساتھی کو تہجد کے لئے اس لئے نہ اٹھائے کہ اس کی خواہش نہیں ہے تو یہ عین مناسب ہے۔لازماً، ز بر دستی نوافل کے لئے کسی کو اٹھانا یہ درست نہیں ہے۔پس دیکھیں کیسے خوبصورت الفاظ ہیں کہ اٹھے، نماز پڑھے اور پھر اپنے ساتھی کو اٹھائے۔وہ فرض نماز ہے جس کے لئے اٹھایا جارہا ہے۔اور فرمایا، اگر وہ اٹھنے میں پس و پیش کرے تو اس کے منہ پر پانی چھڑ کے۔یہ پانی چھڑکنے کا مضمون بتا رہا ہے کہ وہ مرد یا وہ عورت جن کا ذکر چل رہا ہے ان دونوں کی نیت نماز کی ہے۔وہ ارادہ نماز چھوڑنے والے نہیں ہیں۔اس لئے پانی چھڑکنا ان پرز بر دستی نہیں حالانکہ وہ بالغ ہیں ، جوان ہیں، اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔پانی چھڑ کنا بتا رہا ہے کہ انہوں نے درخواست کر رکھی ہے کہ اگر ہم سے نہ اٹھا جائے تو پانی چھڑ کنا۔اگر یہ مضمون اس میں مضمر نہ ہوتا تو نماز کے وقت تو دنگا فساد برپا ہوجاتا۔کوئی عورت نیک بی بی کسی بد بخت خاوند کے منہ پر روزانہ چھینٹے مار کے اس کو اٹھائے جس کا نماز میں دل ہی نہیں، جس کی نیت ہی نہیں ہے وہ تو آگے سے جوتی لے کر پڑے گا۔تو یہ کلام خود بولتا ہے کہ میں نبی کا کلام ہوں اس لئے روایات میں راوی سے بہت زیادہ اہمیت مضمون کو دینی چاہئے۔آنحضرت کے منہ کی باتیں خود بولتی ہیں کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کا کلام ہوں۔ان باتوں میں صلى الله الله جب بھی کسی غیر بات کی آمیزش ہو وہ خود بول پڑتی ہے کہ میں اس رسول کا کلام نہیں ہوسکتا۔پس بسا اوقات اچھے راویوں سے بعض روایتیں ہیں جن میں الفاظ بدلنے کے نتیجے میں کچھ ایسی کمزوریاں دکھائی دیتی ہیں کہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ کلام، اتنا حصہ کم سے کم ، آنحضرت ﷺ کا کلام نہیں تھا۔چنانچہ بہت سے راوی ایسے بھی ہیں جو احتیاط برتتے ہیں ، کہتے ہیں جہاں تک مجھے یاد ہے یہ الفاظ