خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 772 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 772

خطبات طاہر جلد 16 772 خطبہ جمعہ 17 اکتوبر 1997ء آپ کو انشاء اللہ تعالیٰ نہ دلچسپی میں کمی آئے گی ، نہ ان اہم امور کا علم حاصل کرنے میں آپ کو کوئی کمی محسوس ہوگی۔اس خطبہ جمعہ میں اس تفصیل کو میں نے اس لئے کھول دیا ہے تا کہ اب جو باتیں میں آپ کے سامنے تفصیل سے نہیں رکھوں گا آپ یہ نہ سمجھیں کہ انہیں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔نماز میں دلچسپی کے لئے یہ مرکزی بات ہے جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔نماز کا عرفان حاصل کرنا ضروری ہے اور یہ عرفان ہے جو دنیا سے آپ کی توجہ پھیر سکتا ہے اور نماز کی طرف مبذول کر اسکتا ہے کیونکہ عرفان اپنی نوعیت میں ایسی طاقت ہے جس کا دنیا کی طاقتیں مقابلہ نہیں کرسکتیں کیونکہ یہ فطرت کے مطابق ہے۔جس چیز کا آپ کو حقیقی عرفان نصیب ہو کہ اس میں میری ذات کے لئے فائدہ ہے، میری روح کے لئے لذت ہے وہ حقیقی عرفان خود اس بات کا ضامن ہو جاتا ہے کہ آپ اپنی توجہ اسی طرف رکھیں۔یہ کہنا آسان ہے مگر یہ کرنا اس لئے مشکل ہے کہ بعض دفعہ دو دھارے بیک وقت بہتے ہیں اور ہر ایک کے تقاضے اپنے اپنے رہتے ہیں۔پہلے ہی دن سے انسان کامل عارف بندہ نہیں بن سکتا ، بڑی لمبی محنتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔پس یہ خیال کر لینا کہ اردو کلاس سن لیں یا چند خطبے سن لیں تو اچانک آپ اپنے مقام کے آخری مرتبے تک پہنچ جائیں گے اور ساری تو جہات نماز کی طرف پھر جائیں گی۔اس خیال کو دل سے نکال دیں لیکن جو باتیں میں بیان کر رہا ہوں آپ کے لئے ممد ثابت ہوں گی، آپ کے لئے مفید ثابت ہوں گی اور آہستہ آہستہ آپ کی نماز کا مزاج بدلنا شروع ہوگا اور یہ بلند تر ہونے لگے گا اور آہستہ آہستہ آپ کو نماز میں اللہ تعالیٰ کے حضور ایسی مناجات کی توفیق ملے گی جو پہلے نہیں ملتی تھی اور لذت کے مقامات کچھ بڑھیں گے جو رفتہ رفتہ اور ایسے مقامات پیدا کرنا شروع کریں گے یعنی بعض جگہ ایسے نقطے بن جائیں گے جن میں آپ کی دلچسپی ہمیشہ قائم رہے گی۔وہ نقاط رفتہ رفتہ پھیلنے لگیں گے، وہ آپ کے دل کی سطح پر قبضہ کرنے لگیں گے۔جوں جوں وہ آگے بڑھیں گے اور پھیلیں گے اور آپ کے دل میں مزید اللہ تعالیٰ سے تعلق کے مقامات پیدا ہونے شروع ہوں گے آپ کی نماز کا عرفان بڑھتا چلا جائے گا اور بالآخر ، اس میں جب میں بالآخر کہتا ہوں تو حقیقت یہ ہے کہ مضمون کا کوئی آخر نہیں مگر انسان کا ایک آخر ہے، بالآخر آپ اس صورت میں اپنے رب کے حضور حاضر ہو سکتے ہیں کہ آپ کا سفر خدا کی طرف تھا اور خدا کو چھوڑ کر دنیا کی طرف نہیں تھا۔اگر چہ تمام تر سفر تو انسان کے لئے