خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 764 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 764

خطبات طاہر جلد 16 764 خطبہ جمعہ 17 اکتوبر 1997ء لاؤڈ سپیکر کے ذریعے ہمارے گھر میں اوپر ایک کمرے میں نماز میں شامل ہونے کا انتظام موجود تھا۔میری بچیاں بھی اور بعض آنے والے مہمان بھی وہاں اکٹھے ہو کر میرے پیچھے باجماعت جمعہ پڑھ لیا کرتے تھے اور صبح کی نماز میں بھی یہ مسلسل دستور تھا کہ اگر کوئی چاہے تو پڑھ لے۔اس حدیث پر غور کرنے کے نتیجے میں میں نے اس فیصلے کو بدل دیا ہے۔یہ گھر ایسا ہے جس کے ساتھ نہر بہتی ہے یعنی نیچے با قاعده باجماعت نماز کا انتظام ہے اور دور دور سے خواتین آتی ہیں۔تو جن کے گھر کے ساتھ بہتی ہو ان کا اولین فریضہ ہے کہ گھر چھوڑ کر نیچے اتریں اور باجماعت نماز میں اسی طرح حصہ لیں جیسے دوسری خواتین باجماعت نماز میں حصہ لے رہی ہیں۔یہ وجہ ہے کہ اب میں نے اس دستور کو بدل دیا ہے اور آنے والے مہمانوں کو جو پہلے یہاں آیا کرتے تھے ان سے درخواست کی ہے کہ بے شک ہمارے گھر تشریف لائیں مگر نماز پڑھنی ہو تو نیچے جائیں۔میری بیٹیاں بھی نیچے اتریں گی اور سب کے ساتھ مل کر نماز پڑھیں گی۔اس میں ایک دوسری حکمت یہ پیش نظر ہے کہ اگر کسی جگہ با جماعت نماز کا انتظام ہے تو اہل خانہ کا یہ حق نہیں ہے کہ بعض کو اجازت دے اور بعضوں کو نہ اجازت دے۔ایسی صورت میں وہ کمرہ یا وہ جگہ جواس کے لئے مخصوص کی گئی ہے وہ اللہ کے لئے ایک عبادت گاہ کا مقام اختیار کر لیتی ہے۔الْمَسْجِدَ لِله (الحن: 19) مساجد اللہ کے لئے ہیں۔پس اگر وہاں باجماعت نماز اس طرح ہو رہی ہے کہ گویا یہ مسجد کے قائم مقام بن گئی تو پھر مجھے یا کسی اور کو یہ حق نہیں کہ دروازے پر پہرے دار کھڑے ہوں اور کہیں کہ یہ مسجد خاص خواتین کے لئے ہے وہی آسکتی ہیں اور عام خواتین کو یہ حق نہیں اور اسی طرح مردوں کو نہ سہی بچوں کو حق نہیں کہ وہ یہاں آئیں اس لئے یہ سارا دستور غلط تھا اور نیک نیتی پرمبنی تھا مگر تخصص کے بعد جو بات نکلی وہ یہ نکلی جواب میں نے آپ کے سامنے بیان کی ہے۔پس اپنے گھروں میں اگر آپ نے باجماعت نماز کے لئے انتظام کرنا ہے، جیسا کہ میری ہدایت پر بہت سے جرمن گھروں میں یہ انتظام ہے، تو یاد رکھیں کہ پھر اس جگہ کو غیروں کے لئے ممنوع قرار نہیں دیا جاسکتا۔اگر اندرونی نماز ہے تو وہ اور رنگ کی نماز ہے۔ایک خاندانی نماز ہے جو آپ مل کر پڑھ سکتے ہیں لیکن اسے باجماعت نماز کا حقیقی قائم مقام قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک وہ جگہ سب کے لئے کھلی نہ ہو۔پس اس پہلو سے احباب اس صورت حال کو پیش نظر رکھیں۔جن گھروں میں بھی