خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 754
خطبات طاہر جلد 16 754 خطبہ جمعہ 10 اکتوبر 1997ء نے بیان کیا ہے آپ کی طبعی ضرورت جب ابھرتی ہے تو اس کے ساتھ کسی اور کے شریک ہونے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ناممکن ہے کہ ایک انسان پانی کی ایک بوند کو ترس رہا ہو اور اس کا کوئی رشتہ، کوئی خواہش کوئی دنیاوی تقاضا اس کے دل کو پانی کی بجائے کسی اور طرف پھیر سکے۔تو اگر آپ نے مشرک نہیں بننا، اگر آپ نے توحید پر قائم ہونا ہے تو عبادت سے پہلے یہ نکتہ سمجھیں کہ توحید باری تعالیٰ کا قیام لازم قرار دیتا ہے کہ ظاہری عبادت کو ادا کرنے سے پہلے انسان فطر تأبد بن چکا ہو اور اس کے دل کی گہرائی سے اپنے خدا کی رفعت اور عظمت اس طرح بلند ہو کہ جب بھی کوئی چیز اس کے مقابل پر آئے وہ خود بخود اس سے ٹکرا کر پارہ پارہ ہو جائے اور سوال ہی پیدا نہ ہوتا ہو کہ خدا تعالیٰ کی عظمت کے مقابل پر دنیا کی کوئی دلچسپی بھی آپ کے نزدیک کوئی اہمیت رکھے۔پس حضور اکرم ہے نے دیکھو کیسا پیارا جواب دیا۔فرمایا کہ ایسے شخص کو چاہئے کہ اللہ کی عبادت کرے اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہرائے۔اور پھر فرمایا " نماز پڑھ، زکوۃ دے یعنی تمام اسلامی تعلیم کا ذکر اس عبادت کے بعد شروع ہوا ہے جس عبادت کی کچھ تفصیل میں نے آپ کو اب سمجھائی ہے اور زکوۃ ، روزہ ہر چیز بعد میں آتی ہے۔اگر یہ عبادت نہیں جو عبادت کی بنیاد بنتی ہے تو پھر عمارت بھی اس پر تعمیر نہیں ہوسکتی۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔عبادت کے موضوع پر ، جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے، غالباً اگلا خطبہ بھی آنا چاہئے کیونکہ عبادت کے متعلق بہت سی باتیں ہیں جو ایک خطبات کے سلسلے میں میں آپ کے سامنے بیان کر چکا ہوں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کو دہرانے کی ضرورت ہے کیونکہ احمدی گھروں میں بدقسمتی سے یہ کمزوری ایسی پائی جارہی ہے کہ جسے وہ دیکھتے بھی ہیں اور مجھتے ہیں کہ ہمارے ایمان کو نقصان نہیں پہنچ رہا۔یہ مجھنا بالکل جھوٹ ہے۔خواہ وہ دنیا کی ساری نیکیاں اختیار کر رہے ہوں جب وہ وسطی نماز سے توجہ پھیر لیں گے تو ان کی نماز کو لازماً نقصان پہنچتا ہے۔انسان کے لئے بعض مجبوریاں بھی ہوتی ہیں۔اپنے بچوں اور بچیوں کو ایک حد تک انسان نصیحت کر سکتا ہے۔جب تک وہ اس عمر میں ہوں کہ جہاں ان پر کسی قدرسختی بھی کی جائے اور ان کو بار بار نصیحت کی جائے۔ایسی نصیحت میں بھی کرتا رہا ہوں لیکن اس کے بعد جب انہوں نے عدم توجہ