خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 70
خطبات طاہر جلد 16 70 خطبہ جمعہ 24 /جنوری 1997ء طاقت ہے جہاں تک پہنچتے ہیں آگے کچھ اور دکھائی دیتا ہے اور ہم تھک کے واپس آچکے ہوتے ہیں اور اس کی معرفت کو پا نہیں سکتے۔یہ لا محدودیت ہے جو انسان کے نقطہ نظر سے ہے۔جہاں تک چاہے چلا جائے جہاں تک چاہے غور کرتا چلا جائے وہ کسی غور کو اپنی ایسی انتہا تک نہیں پہنچا سکتا کہ آگے دیوار کھڑی ہو کہ اب میں آگے نہیں جا سکتا کھلے رستوں میں کھلی دیوار میں ہیں یعنی کھلی دیوار میں انسان کی بے اختیاری کی دیواریں ہیں۔رستے کھلے ہیں آؤ اور میری جستجو کرو۔آؤ اور تلاش کرو کہ کہاں مجھ میں کوئی رخنہ باقی ہے اور دوڑے چلے جاؤ ساری زندگی کا سفر،ساری نسلوں کا سفر، ساری کائنات کا سفر ہے جو تم پر منتج ہوا ہے یہ بھی تو غور کرو۔جب کہا جاتا ہے ایک انسانی زندگی کا سفر تو مراد یہ نہیں ہے کہ چند سال کا۔انسان تو کائنات کے سفر کے آخر پہ کھڑا ہے وہ آخری لوگ جو منزل کے قریب تر پہنچے ہیں جیسے دوڑ ہورہی ہو میراتھن تو بے شمار لوگ بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اور کچھ ہیں جو سب سے آگے ہوتے ہیں جوسب سے آگے ہیں انہوں نے وہ سارے رستے دیکھے ہوئے ہیں جو پچھلے لوگوں نے ابھی کچھ دیکھے ہیں اور کچھ دیکھنے ہیں تو الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کا دعویٰ جو ہے وہ یہ منظر پیش کر رہا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ساری کائنات تسبیح کرتے ہوئے ہی یہاں تک آئی ہے جہاں سے تم نے یہ ڈنڈا اپنے ہاتھ میں تھاما ہے یہ نشان اپنے ہاتھ میں تھاما ہے اور آگے بڑھ رہے ہو۔پس تسبیح کا مضمون حمد میں جو داخل ہوا ہے یہاں تسبیح کی بجائے حمد کا لفظ استعمال ہوا ہے یہ وہ پہلو ہے جسے خصوصیت کے ساتھ اگر آپ سمجھ لیں تو دراصل تسبیح اور حمد میں فرق تو کوئی ایسا نہیں کہ جب تک تسبیح ختم نہ ہوحمد شروع نہیں ہوتی یہ دراصل مضمون ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔مگر اب چونکہ وقت ختم ہو رہا ہے اس لئے میں انشاء اللہ آئندہ خطبے میں اس مضمون کو آگے بڑھاؤں گا کہ خدا تعالیٰ نے جب یہ فرمایا الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ تو یہ ساری باتیں سوچنے کے بعد ایک یقینی نتیجہ تو انسان لازماً نکالے گا کہ میں اس ساری کائنات کا ، اس ہیں بلین سال کے سفر کا علمبر دار ہوں اور اس کے نتائج کا علم بردار ہوں۔یہ جھنڈا جور بوبیت کی حمد کا میں نے ہاتھوں میں تھاما ہوا ہے یہ بے وجہ نہیں اس کے پیچھے ہیں بلین سال کی گواہیاں کھڑی ہیں اور آغاز سے لے کر اب تک وہ گواہی ہمیشہ ایک ہی آواز بلند کرتی رہی ہے کہ اللہ ہر برائی سے پاک ہے، ہر کمزوری سے پاک ہے۔پس اس پہلو سے میں اب اس مقام پر پہنچا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے ساتھ اس کی رحمانیت کی جلوہ گری سے جس کا ذکر