خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 71

خطبات طاہر جلد 16 71 خطبہ جمعہ 24 /جنوری 1997ء آگے آنے والا ہے میں اب حمد کے گیت گانے کا اہل بنا دیا گیا ہوں اور حمد کا گیت کس نے سکھایا ؟ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے۔الْحَمدُ کے لفظ کے اندر وہ بات پہلے ہی داخل فرما دی تھی جس کی طرف توجہ نہیں گئی کسی کی یا بعض دفعہ نہیں جاتی کہ رب العلمین کا مضمون حمد کے ساتھ وابستہ ہے۔مگر حمد سیکھو گے کس سے؟ تم تو جاہل مطلق ہو، تمہیں وہ فضیلت بظاہر بخشی گئی ہے کہ تم سب کائنات کے سفر میں سب سے آگے کھڑے ہو لیکن جس نے اس مضمون کو سمجھا اور جس نے اس مضمون کو ہر پہلو کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل کے تابع معراج تک پہنچایا وہ تو محمد رسول اللہ ﷺے ہیں۔پس حمد میں جو ح۔م۔ڈ“ کا مضمون ہے وہی مضمون ہے جو محمد میں بھی ہے اور احمد میں بھی ہے اور اس تعلق سے پھر جب سورۃ فاتحہ پہ آپ غور کرتے ہیں تو تسبیح کا مضمون حمد میں داخل ہو جائے گا اور حمد بھی وہ جس کے گیت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے گائے اور اب اس پر غور کرنے کے لئے آپ کو کتنے سال کی عبادت درکار ہے اس کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں۔اس لئے بہت ہی بچگانہ خیال ہے کہ نماز میں بار بار وہی بات دہرائی جارہی ہے ہم کیوں نہ بور ہو جائیں۔جنہوں نے بور ہونا ہے وہ اپنے اندھے ہونے کی وجہ سے بور ہوتے ہیں جن کو نظر آتا ہے ان کے سامنے سورۃ فاتحہ کے مضامین لامتناہی ہوتے ہیں کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتے۔اس پہلو سے جب آپ رمضان گزاریں گے تو یہ زندگی کیا آپ آئندہ آنے والی جتنی بھی زندگیاں پا سکتے ہیں ان سب کے راز پا جائیں گے اور وہ ساری زندگیاں آپ کی حمد سے بھر جائیں گی تب موت اللہ کا فضل بن کے آئے گی تا کہ محنت کا دور جو لا متناہی ہونا چاہئے تھا اس کو کاٹ دے اور اجر کا دور شروع ہو جائے۔مگر اجر کا دور اس لئے نہیں کہ آپ احتساب اجر کے معنوں میں کر رہے ہیں۔اجر کا دور اس پہلو سے کہ آپ نے احتساب اپنے نفس کی کمزوریوں کی جانچ کرنے کی خاطر ، ان کی جستجو کی خاطر کیا تھا۔اللہ تعالیٰ اس پہلو سے یہ رمضان ہمارے لئے مبارک فرمائے اور اس رمضان کی ہر عبادت کا سفر ہمیں پہلے سے بلند تر مقامات کی طرف ہدایت دیتا ہوا لے جائے۔آمین