خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 753
خطبات طاہر جلد 16 753 خطبہ جمعہ 10 اکتوبر 1997ء جو اپنے سارے وجود کو خدا کے حضور پیش کرنے کا ارادہ ہو، اگر یہ عبادت نماز کی بنیاد نہ بنے یعنی وہ عبادت جو نماز کے فرائض ادا کرنے سے پہلے شروع ہو چکی ہو تو ہر دوسری بنیاد جس پر نماز کو قائم کیا جائے گا ایک کھوکھلی بنیاد ہوگی۔اس لئے اپنی نمازوں پر غور کر کے دیکھیں تو آپ کو یہی معلوم ہوگا کہ نماز سے پہلے خدا تعالیٰ کی خاطر اپنے آپ کو وقف کرنے کی روح ہو تو پھر نماز کے معنی بنتے ہیں اگر وہ روح نہ ہو تو نماز کے کوئی معنی نہیں بنتے کیونکہ یہ روح جس بندے میں ہو وہ اس طرح نماز کی طرف دوڑتا ہے جیسے بھوکا کھانے کی طرف دوڑتا ہے۔کھانے کی اشتہاء اس کی فطرت میں ہے۔یہ بھوک اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ کھانے کی طرف دوڑے خواہ وہ معمولی کھانا ہی ہو لیکن جس طرح بھی بن سکے اپنی فطرتی خواہش کو ، اشتہاء کو بجھا سکے۔اگر نماز کی طرف اس طرح دوڑنا ہے تو پھر ہر دوسری ضرورت اس کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں رکھے گی۔اگر آپ کو سخت پیاس لگی ہو اور آپ کو آپ کے ساتھی کسی کھیل کی طرف بلا رہے ہوں کہ چھوڑو پانی کو دفع کرو، آؤ یہ کھیل کھیلتے ہیں تو کون ہے جو اس کھیل کی طرف توجہ کرے گا۔اس پر تھو کے گا بھی نہیں۔کوئی اور ضرورت جو دل میں ایک اشتہاء پیدا کر دیتی ہے اس سے ٹکرانے والی ہر چیز اپنے معنی کھو دیتی ہے، اس میں دلچسپی باقی نہیں رہتی۔پس اگر نماز کے وقت ذہن میں نماز کی اہمیت ایک فطری تقاضے کے طور پر نہ ہو، ایسے تقاضے کے طور پر نہ ہو جس کے مقابل پر ہر دوسرا تقاضا بے معنی ہو جاتا ہے تو پھر یہ نماز خالصہ اللہ نہیں رہتی اور حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کا یہ فرمانا کہ اللہ کی عبادت کر اور اس کا شریک نہ ٹھہرا، یہ فرمانا کچھ بھی معنی نہیں رکھے گا اگر جو بات میں بیان کر رہا ہوں یہ لازمی حقیقت نہ ہو۔خدا کا شریک نہ ٹھہرا‘ در اصل اس عبادت سے شروع ہوتا ہے کیونکہ جوشخص عبادت کا یہ مضمون سمجھ لے جو میں عرض کر رہا ہوں کہ اگر خدا کی خاطر اس موقع پر جبکہ عبادت کا مقام اور مرتبہ انسان پر ظاہر ہو چکا ہو انسان اس طرح نہ دوڑے جس طرح پیاسا پانی کی طرف دوڑتا ہے، بھوکا کھانے کی طرف دوڑتا ہے تو پھر اس عبادت کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔وہ عبادت کا حق ایک ظاہری رسم بن جائے گا اور فطرت اس کو دھتکار دے گی اور اس عبادت کی طرف متوجہ ہونے کو جھوٹا قراردے گی۔اس کے ساتھ ہی حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ” شرک نہ کرو یہ نکتہ ہے جو ایسا گہرا نکتہ ہے جو عبادت کے مقام کو ظاہر کرنے والا ہے اور توحید باری تعالیٰ کے مقام کو بھی ظاہر کرنے والا ہے۔جیسا کہ میں