خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 749 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 749

خطبات طاہر جلد 16 749 خطبہ جمعہ 10 اکتوبر 1997ء کرتا ہے اور بہتر ہے کہ اخروی جہنم کی بجائے اسی دنیا میں ان کے گھر جلا دیے جائیں، یہ ایک پیغام ہے۔ایک غصے کا اظہار نہیں ہے۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی تمام باتیں بہت گہرائی رکھتی تھیں اور ہر اظہار میں بہت معنی خیز اور دیر پا اثر رکھنے والا ایک پیغام ہوا کرتا تھا۔اس حدیث میں مجھے یہی پیغام ملتا ہے کہ حضرت اقدس ﷺ کے نزدیک جو لوگ صبح کی نماز سے غافل ہیں وہ گویا اپنے جلنے کا انتظام کر رہے ہیں جس کا تعلق دوسری دنیا سے ہوگا اور ان کے لئے بہت بہتر ہوتا کہ اسی دنیا میں جل جاتے بجائے اس کے کہ بعد کی جواب طلبی میں مبتلا ہو کر جہنم کے عذاب کو مول لیتے۔پس نماز صبح خصوصیت کے ساتھ میرے پیش نظر ہے مگر۔وَالصَّلوةِ الْوُسطی میں اور نمازیں بھی آتی ہیں۔یہاں یورپ میں اکثر یہ رواج ہے کہ کام پر جاتے ہوئے کام کی مصروفیت کی وجہ سے دن کی وہ نمازیں ضائع کر دیتے ہیں جو عین کام کے دوران آتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ نمازیں ضائع کرنا مجبوری ہے اور اس وقت کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یا نقصان اٹھاتے ہوئے جو اللہ تعالیٰ کا فریضہ ان پر عائد ہوتا ہے اس سے غافل ہو جاتے ہیں۔وَالصَّلوة الوسطی یعنی کاموں میں گھری ہوئی نماز جتنا کاموں میں گھرتی ہے اتنا ہی بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔بظاہر جتنا بھی اس پر عمل کرنا یعنی اس کا حق ادا کرنا مشکل ہوتا چلا جاتا ہے اتنا ہی اس کا حق بلند ہوتا چلا جاتا ہے اور یہ ناممکن ہے کہ کاموں میں گھری ہوئی نماز سے آپ عدم توجہ کریں اور اپنا گہرا نقصان نہ کریں۔پس یہ نماز جتنی مصروفیتوں میں آئے اتنا ہی زیادہ آپ کی توجہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے، آپ کی توجہ کو اپنی طرف سے دور نہیں ہٹاتی۔پس وہ ساری مغربی قو میں جن میں ایسی نمازیں خواہ دن کو آئیں یا رات کے کام کے دوران آئیں ان میں احمدیوں کو خاص طور پر وَالصَّلوة الوسطی کا نگران ہونا چاہئے اور سوچیں کہ اگر وہ کام کی مجبوریوں کی وجہ سے اس نماز کا حق ادا نہیں کر سکتے تو کام چھوڑ دیں کیونکہ یہ کام تو دنیا کا کام ہے لیکن اللہ کا کام نہ چھوڑیں اور اللہ تعالیٰ نے جو فریضہ عائد فرمایا ہے اس کو بہر حال سرانجام دینے کی کوشش کریں۔یہ ایک لازمی حقیقت ہے جس سے روگردانی اپنے سب سے اہم فریضہ سے روگردانی ہوگی، جس سے روگردانی کے نتیجہ میں آپ کی عاقبت بھی خراب ہوگی اور دنیا بھی خراب ہوگی۔اس لئے از سر نو اس معاملے پر غور کریں اور اس درمیانی نماز کی حفاظت کے لئے انتظام