خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 745 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 745

745 خطبہ جمعہ 10 را کتوبر 1997ء خطبات طاہر جلد 16 جایا کرتی ہیں۔یہ ایک فرضی کہانی نہیں بلکہ ایک گہری حقیقت ہے کہ نماز کے معراج کا تعلق انسان کے انکسار سے ہے۔سب سے بڑا معراج سجدوں میں ہوتا ہے اور سجدہ ایسی حالت ہے جس میں انسان زمین کے ساتھ لگ کر اپنی انتہائی پستی کا اقرار کرتا ہے اور وہیں سے سبحان ربی الاعلیٰ کی صدا بلند ہوتی ہے کہ پاک ہے میرا رب جو سب سے بلند ہے۔پس ہر ترقی کا راز انسانی نفس کی اس پستی میں ہے جو وہ خود خدا کی خاطر اختیار کرے اور اسی سے ساری ترقیاں وابستہ ہیں اور نماز نے ہمیں یہ گر سکھایا ہے۔اس پہلو سے جب میں نے ان دونوں کو نماز کا ٹارگٹ دیا تو ساتھ ہی مجھے خیال آیا کہ جمعہ کا مضمون بھی خدا تعالیٰ نے خود ہی سکھا دیا ہے۔یہ جمعہ جس نئے سال کا آغاز کرے گا اس میں جماعت احمدیہ غیر معمولی طور پر نماز کی طرف متوجہ ہو جائے۔اس کی ضرورت اس لئے بھی پیش آئی کہ سفر کے دوران ایک ایسا واقعہ گزرا جس سے میری طبیعت پر گہرا اثر تھا۔ایک احمدی بچی نے جو شادی شدہ ہے، آگے بچے بھی ہیں، اس نے اپنے خاندان کی ملاقات کے بعد مجھ سے الگ چند منٹ وقت چاہا کہ میں نے بہت ضروری بات کرنی ہے۔جب میں نے وقت دیا تو اس پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ بات کرنا مشکل ہو رہی تھی۔مجھے کئی قسم کے وہم آئے کہ اس بے چاری کو شاید خاوند کی طرف سے کوئی جسمانی یا مالی دکھ ہے یا اور مسائل ہیں یا ساس سر وغیرہ کی طرف سے تکلیفیں ہیں لیکن میں صبر سے انتظار کرتا رہا کہ وہ ذرا اپنے آپ کو سنبھال لے تو مجھ سے بات کرے۔اس نے بات اس طرح شروع کی کہ مجھے اپنے خاوند کی طرف سے کوئی جسمانی یاد نیاوی تکلیف نہیں۔بہت ہی نیک طبیعت کا انسان ہے، ہر طرح میرا خیال رکھتا ہے اور بچوں کا بھی خیال رکھتا ہے۔جو چاہوں، جس طرح چاہوں وہ مجھ پر خرچ کرتا ہے اور میرے کہنے پہ جماعت کے چندے بھی ادا کرتا ہے لیکن یہ کہتے ہوئے پھر وہ پھوٹ پڑی، مقصد یہ تھا، یہ کہنا چاہتی تھی کہ نماز نہیں پڑھتا۔ایک تو میرے دل پہ اس بات کا بہت گہرا اثر پڑا کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک احمدی بچی اپنے خاوند کے نماز نہ پڑھنے کے نتیجے میں اتنی غمزدہ ہے کہ اس کی ہر دوسری خوبی اس کو کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہی۔وہ بجھتی ہے کہ اگر یہ نماز نہیں پڑھتا تو کچھ بھی نہیں رہا اور یہ بات بالکل درست ہے۔اگر نماز نہ رہی تو کچھ بھی نہ رہا۔بسا اوقات میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو نماز نہیں پڑھتے اور ویسے نیک ، بظاہر باقی باتوں میں