خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 69
خطبات طاہر جلد 16 69 خطبہ جمعہ 24 /جنوری 1997ء ہیں۔آپ یہ گواہی دیتے ہیں اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمین ہمارے وجود سے پہلے ہی تیری حمد کا مضمون کامل تھا اور ہمیشہ سے کامل رہا ہے۔ساری کائنات اپنی پیدائش اور ترقی کے ہر دور میں تیری ہی حمد کے گیت گاتی رہی ہے اور جب ہم یہ غور کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ تو نے ہماری خاطر کیا تھا تو انسان کا بجز دیکھو کس مرتبے، کس گہرائی تک جا پہنچے گا اس سے آگے پھر گہرائی کا تصور ہی باقی نہیں رہتا۔گویا انسان مٹلتے مٹتے خدا کی راہ میں بالکل مٹ جائے گا اور یہ بات کا ئنات کے تصور کے ساتھ ایسی وابستہ ہے کہ اس سے اس کو الگ کیا ہی نہیں جا سکتا۔خدا کی عظمت کا تصور، کائنات کی عظمت کے تصور سے الگ کر کے انسان کے لئے فی الحقیقت ممکن ہی نہیں ہے۔خدا کو آپ رَبُّ العلمین کہتے ہیں تو اس کا مطلب کیا ہے کتنا بڑا رب ہے۔وہ عالمین کتنے بڑے ہیں۔جب تک ان کا نہ پتا چلے رب کی بڑائی کا کیسے پتا چلے گا۔پس عالمین پر غور کے جو مختلف ذرائع ہیں، طریق ہیں وہ میں آپ کو سمجھا رہا ہوں۔ایک یہ معنی ہے رَبُّ الْعَلَمِین کا کہ اتنے بڑے جہان اس نے پیدا کئے ہیں کہ ان کی کنہہ کی آج بھی ہمیں سمجھ نہیں آسکتی اور وہ آغاز ہی سے خدا کا ذکر کر رہے ہیں اور ان کے وجود کا لح لحہ ہر قسم کے نقص سے پاک ہے۔اب اتنا بڑا دعوئی اگر شعور کے ساتھ کیا جائے تو تب سبحان اللہ کہنے کا انسان مجاز بنتا ہے۔پھر یقین کے مقام پر کھڑے ہو کر یہ کہ سکتا ہے کہ اے خدا تیری کا ئنات پر نظر ممکن نہیں تو ہم تیری صفات کاملہ پر کیسے نظر ڈال سکتے ہیں۔مگر یہ ضرور گواہی دیتے ہیں کہ جہاں تک ہماری نظر گئی ہے ہم نے اس کائنات کو نقص سے پاک دیکھا ہے، جہاں تک نگاہ دوڑائی کبھی کوئی رخنہ نہ پایا۔ہمیشہ نگاہیں نامراد ہو کر لوٹی ہیں اور تیری تسبیح کے گیت گاتی ہوئی واپس آئی ہیں۔پس اب ہم اس مقام پر کھڑے ہیں کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ کا اعلان کرتے ہیں۔مگر رب العلمین پھر ہر شخص کا الگ الگ ہوتا چلا جائے گا۔یعنی آپ کو جتنا عالم کا علم ہے اتنا ہی وہ آپ کا رب بنے گا اور جتنی اس مضمون کو وسعت دیں گے اتنا ہی یہ رَبُّ الْعَلَمِین وسیع تر ہوتا ہوا آپ کے او پر جلوہ گر ہو گا۔جب مادی کائنات میں یہ حال ہے تو روحانی صفات باری تعالیٰ اسی طرح عظیم بھی ہیں اور اسی طرح لا محدود بھی ہیں بلکہ ان سے زیادہ کیونکہ جس خدا نے یہ لامحدود کائنات پیدا کی ، لامحدود ان معنوں میں کہ اس کی کنہ کو سمجھنے کی ہم میں طاقت ہی نہیں ہے۔جتنی