خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 68

خطبات طاہر جلد 16 68 خطبہ جمعہ 24 /جنوری 1997ء اس کا کیا تعلق ہوا۔انسان ہوتا یا نہ ہوتا یہ ساری کائنات تسبیح کر رہی تھی اور کر رہی ہے۔یہ بات بتاتی ہے کہ آغاز آفرینش کے ساتھ ہی شعور کا بیج بویا گیا تھا اور آغاز میں یہ شعور کا بیج بہت ہی ہلکا تھا جیسا کہ ہر تخلیق کی صفت دبی دبی سی تھی اور پوری طرح ہر پہلو سے جلوہ گر نہیں ہوئی تھی۔اب وہ Big Bang کا آپ تصور کر کے دیکھیں جب کہ یہ کائنات اچانک ایک دھماکے کے ساتھ وجود میں آتی ہے تو اس کے ابتدائی لمحوں کے بار یک در بار یک ثانیے کرتے چلے جائیں تو پھر جاکر Higher Mathematics کے ذریعے یہ مضمون سمجھ آئے گا کہ کتنی جلدی آغاز ہی میں آئندہ آنے والے سارے واقعات اس تخلیق پر مرتسم ہو گئے جو ایک دھماکے کے ساتھ پھٹ کر وجود میں آ رہی تھی۔تو اللہ تعالیٰ جزاء دے ان Mathematiacians کو جن میں ہمارے پروفیسر ڈاکٹر عبد السلام مرحوم بھی تھے جنہوں نے Higher Mathematics کے ذریعے یہ باتیں معلوم کیں اور ایک دفعہ مجھے یاد ہے ڈاکٹر عبدالسلام صاحب سے اس گفتگو کے دوران جب میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ جو پہلا دور ہے جس میں کائنات کی تشکیل کا مضمون بڑی تفصیل کے ساتھ ہر اس ذرے پر مرتسم ہوا ہے جو وجود میں آرہا ہے یہ اتنی تیزی سے ہوا ہے کہ ہم حساب کی زبان کے سوا سمجھا ہی نہیں سکتے۔یعنی ایک سیکنڈ یا دو سیکنڈ کی بات نہیں ہے ایک سیکنڈ کے اتنے لاکھویں، کروڑویں حصے میں یہ بات شروع ہو گئی ہے اور تیزی سے پایہ تکمیل کو پہنچی ہے کہ اس کا حساب رکھنا ممکن نہیں۔مگر قرآن کریم فرما رہا ہے کہ وجود کا ایک لمحہ بھی ، ایک ثانیے کا کروڑواں،ار بواں حصہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں وہ وجود حمد نہیں کر رہا تھا یعنی تہی نہیں کر رہا تھا اور وہ تسبیح کرنا اس کا کیسا برحق ثابت ہوا کہ ساری کائنات جب پیدا ہوگئی اور اپنی ان عظمتوں کو پہنچی جو ہم دیکھ رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ یہ چیلنج کرتا ہے کہ نظر دوڑا کے دیکھو تو سہی کہ کوئی رخنہ نظر آتا ہے۔اے انسان غور کر۔ہر طرف نظر دوڑا کوئی ادنی سا بھی رخنہ اس تمام کائنات میں دکھائی دیتا ہے! فرمایا تیری نظر تھکی ہوئی لوٹ آئے گی اور کوئی رخنہ نہیں پائے گی۔پھر نظر دوڑا شاید اس دفعہ کوئی کمزوری دکھائی دے دے مگر پھر تیری نظر ناکام، نامراد تجھ تک واپس آجائے گی اور ساری کائنات میں کوئی بھی رخنہ نہیں دیکھے گی۔پس یہ ہے رَبُّ العلمین کا مضمون یعنی بے انتہا مضامین میں سے ایک یہ پہلو ہے جس پر آپ غور کریں تو آپ حیران ہوں گے۔آپ یہ گواہی نہیں دے رہے کہ صرف ہم ہی ہیں جو تیری حمد کے گیت گاتے