خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 735
خطبات طاہر جلد 16 735 خطبہ جمعہ 3 اکتوبر 1997ء بتائیں کہ تم اپنے جسم کی اور اپنے حسن کی حفاظت کرو۔ایسالباس اوڑھو جس کی وجہ سے غیر کو دلچپسی پیدا نہ ہو۔اگر نگا یہاں کا لباس لے کے نکلیں گی تو لازما غیروں کی نظر اپنی طرف کھینچیں گی۔دوسرا ان کو یہ سمجھانا چاہئے کہ ارد گرد کی دنیا بالکل بے حقیقت اور بے معنی چیز ہے۔جو بدنی دلچسپیاں ہیں انہوں نے قوم کو تقریباً ہلاک کر دیا ہے۔سب سے خطرناک بیماریاں، غلیظ گندی بیماریاں اس قوم میں اس کثرت سے پھیل رہی ہیں کہ آپ ان کا شمار نہیں کر سکتے۔ایسے بعض خاندان جنہوں نے اس بات کی پروا نہیں کی ان کو یہ بیماریاں لاحق ہوئیں اگر چہ بہت کم لیکن سمجھ آجاتی ہے کہ اس کا پس منظر کیا ہے۔چند دن کی زندگی ہے یہ عیش و عشرت کی۔اس کے بعد ان کے بڑھے ہسپتالوں میں جان دیتے ہیں یا اولڈ پیپلز ہومز (Old Peoples Homes) میں جا کے جان دیتے ہیں۔دس پندرہ سال کا کرشمہ ہے بس اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں اور جب واپسی ہوگی تو سخت حسرت کے ساتھ واپسی ہوگی، کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا اور واپسی ضرور ہے لازماً ہم سب نے اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے اور سب کچھ گنوا کر ، کھو کر اگر حاضر ہوئے بھی تو پھر آئندہ دنیا میں یہاں کی زندگی کے عمل کچھ بھی کام نہیں آئیں گے۔اگر کام آئیں گے تو منفی صورت میں کام آئیں گے۔پس اس پہلو سے میں ایک دفعہ پھر آپ کو توجہ دلاتا ہوں کہ تربیت کی طرف پوری توجہ کریں اور امیر صاحب کینیڈا کا فرض ہے کہ وہ ہر جگہ تربیتی کمیٹیاں مقرر کریں۔وہ گہرا تجزیہ کریں اور محض ظاہری طور پر یہ توجہ نہ دلائیں کہ جی برقعہ اوڑھو، پردہ کرو بلکہ دلوں میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔یہ تبدیلیاں پیدا کرنے میں MTA بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس کا ہم نے انگلستان میں عملاً تجربہ کر کے دیکھا ہے کہ شروع میں بعض شہروں میں بڑی کثرت کے ساتھ ایسے گھر تھے جن میں MTA کا انٹینا نہیں لگا ہوا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ہمیں کچھ بھی نقصان نہیں ہے۔صرف چند ایک تھے۔اللہ تعالیٰ جزاء دے انصار اللہ کے اس وقت کے صدر صاحب کو انہوں نے یہ مہم اپنے ذمہ لی اور اس سکیم کو کامیاب کرنے کے لئے کچھ قرضے بھی ان کو میں نے مہیا کئے۔ہر شہر، ہر گھر میں MTA کا انٹینا لگ جائے اور اللہ کے فضل سے بڑی بھاری اکثریت کے گھروں میں یہ انٹینے لگ چکے ہیں اور ان کے خاندانوں کی کایا پلٹ گئی ہے۔ان کے بڑے بھی اور ان کے بچے بھی جن کا کوئی بھی جماعت سے تعلق نہیں تھا بے اختیار جماعت کے اوپر الٹے پڑتے ہیں۔اب یہاں بھی کل آپ نے وہ نغمہ سنا تھا