خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 736
خطبات طاہر جلد 16 736 خطبہ جمعہ 3 اکتوبر 1997ء جو غالباً سردم سارا چھی چھی ائے وہ یہاں کی بچیوں نے MTA سے سیکھا تھا اور اس کا بہت اچھا اثر طبیعت پر پڑا لیکن یہ ایک واقعہ نہیں امریکہ میں میں نے بارہا دیکھا کہ وہاں MTA کا اس سے بھی زیادہ گہرا اثر پڑ چکا ہے اور بچیوں کی کایا پلٹ گئی ہے۔وہ بیرونی دنیا کو چھوڑ کر جماعت کے اندر کی طرف سفر اختیار کر چکی ہیں۔تو تربیت محض یہ کہنے سے نہیں ہوگی کہ اچھے کام کیا کرو، برے کام چھوڑ دو کیونکہ اس نصیحت سے بعض دفعہ طبیعتیں اور بھی متنفر ہو جاتی ہیں۔تربیت کے لئے حکمت عملی کی ضرورت ہے۔عقل سے کام لیں اور بچوں کے دلوں میں وہ ہیجان پیدا کریں جو ہیجان ان کو واپس خدا کی طرف کھینچ لائے۔اگر ایسا کرنے میں آپ کامیاب ہو جائیں جو مشکل کام نہیں رہا اور MTA اس میں انشاء اللہ آپ کی مددگار ہوگی تو دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت نمایاں فرق پڑے گا۔اس کا ایک تجربہ میں نے اپنی ملاقاتوں کے دوران کر کے دیکھا۔جن بچوں یا بچیوں کے متعلق محسوس ہوا کہ وہ گویا ہمارے نہیں رہے، ان سے ضمنا میں نے پوچھا کہ MTA بھی آپ کبھی دیکھتے ہیں تو جواب ملا کہ ہمارے گھر میں ہے ہی نہیں۔صاف پتا چلا کہ MTA کے ہونے اور نہ ہونے کا ایک فرق ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے آپ کو تربیت کی توفیق بخشے۔تبلیغ کی طرف توجہ دینے کی بھی بہت ضرورت ہے مگر اس تربیتی حالت میں آپ کیا توجہ دیں گے۔جب تک تربیت کی حالت بہتر نہ ہو لوگوں کو ایسے گھروں میں داخل کرنا جو خود بے دین ہو رہے ہوں ہمیں کچھ بھی فائدہ نہیں دے گا۔جماعت کی تربیت مضبوط کریں اور وہ مضبوط تربیت اپنی ذات میں ایک غیر معمولی کشش کے ساتھ لوگوں کو اپنی طرف کھینچے گی۔آج تبلیغ کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ اپنے اندر روحانی عادات پیدا کریں۔اللہ سے تعلق اور محبت پیدا کریں اور وہ ایک ایسی کشش ہے جس کا مقابلہ بیرونی دنیا نہیں کر سکتی۔وہ کشاں کشاں چلے آئیں گے اگر آپ کے اندروہ خدائی علامات دیکھیں گے۔پس صرف بچوں کی تربیت کی طرف نہیں اپنی تربیت کی طرف بھی پہلے سے بڑھ کر توجہ کریں۔جس ہو میو پیتھی کتاب کا میں ذکر کرتا رہا ہوں اس سلسلے میں کینیڈا کے سفر کا میرا خیال ہے ساری دنیا پر یہ احسان ہوگا کہ اس سفر میں مجھے یہ کتاب پہلی دفعہ دیکھنے اور پڑھنے کی توفیق ملی۔ایک