خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 733 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 733

خطبات طاہر جلد 16 733 خطبہ جمعہ 3 اکتوبر 1997ء میرے سامنے سر ڈھانپ کر بیٹھو۔یہ درست طریق نہیں ہے۔یہ حقیقت میں تقویٰ کے خلاف بات ہے۔جس حالت میں آپ ہیں اسی حالت میں میرے سامنے آئیں۔معمولی ادب و احترام اپنی جگہ ہوا کرتا ہے لیکن اس قسم کے سرڈھانکنے سے بات نہیں ڈھک سکتی۔جو حقیقت ہے وہ تو مجھ پر فوراً ظاہر ہو جاتی ہے۔نظر ڈالتے ہی پتا چل جاتا ہے کہ یہ بچیاں ہماری رہی بھی ہیں کہ نہیں۔غیروں کی تو نہیں ہو چکیں اور افسوس کی بات ہے کہ ماں باپ کو بچپن سے ہی ان کے حالات دیکھنے کے باوجود اس طرف توجہ نہیں ہوئی اور یہی کافی سمجھتے رہے کہ دینی علم نہ سہی، دنیاوی علم میں بڑی ترقی کر رہی ہیں اور بڑی سمارٹ ہیں اور سکول و کالج میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔یه درست ہے کہ ہر جگہ پر دے کو انتہائی شدت سے نافذ نہیں کیا جاسکتا لیکن دوسری تہذیب سے متاثر ہو کر اگر آپ اپنی اعلیٰ اقدار کو چھوڑ دیں اور اپنی بچیوں اور بچوں کو غیروں کی طرف جانے دیں تو آپ کا مستقبل لٹ جائے گا، کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔سکھوں سے فائدہ اٹھائیے۔دیکھو سکھوں کی پہلی نسل نے اپنی قدیم روایات کو مضبوطی سے پکڑا ہے۔ایک ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں کی کہ ان کی پگڑیاں اور ان کی ڈاڑھیاں ان کے متعلق دنیا پہ کیا تاثر پیدا کرتی ہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ ساری دنیا اس پہلو سے ان کی عزت پر مجبور ہے اور کبھی کسی جگہ بھی ان کو قدامت پسند نہیں سمجھا گیا۔انہوں نے اپنا مقام پیدا کر لیا ہے معاشرے میں لیکن ان کے بعد کی جو نسلیں ہیں ، ایک نسل چھوڑ کر دوسری نسل وہ اس پہلو سے بزدلی دکھا گئیں۔اب اگر آپ ان کی نسلوں کے بچوں کو یہاں دیکھیں تو کچھ بھی انہوں نے ماضی کا باقی نہیں رہنے دیا۔بظاہر صرف پگڑی اتاری ہے اور ڈاڑھی مونڈی ہے مگر اس روایت نے ان کی اعلیٰ اخلاقی اقدار اور دیگر ایسی خوبیوں کو جس کے ذریعہ سے وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی دولت کمانے کے اہل تھے ان کو ملیا میٹ کر دیا ہے۔بعض روایتیں پکڑنی چاہئیں۔اس پہلو سے کہ وہ ہمارے اندرونی کردار کی حفاظت کرتی ہیں۔اس پہلو سے لباس بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔اگر لباس ایسا ہو کہ جیسا معاشرے میں غیر ذمہ دار لوگوں کا لباس ہوا کرتا ہے تو اس تھوڑے سے فرق کے نتیجے میں بھی آپ کی تمام سابقہ روایات ملیا میٹ ہو سکتی ہیں۔پس یہ پہلو ایسا ہے جس میں میں سمجھتا ہوں کہ اگر وینکوور کا یہ حال ہے تو ٹورانٹو کا بھی ایسا ہی ہوگا اور باہر سے آنے والے دوسرے لوگوں کے اوپر اسی بیماری نے حملہ کیا ہوگا۔