خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 730
خطبات طاہر جلد 16 730 خطبہ جمعہ 3 اکتوبر 1997ء توفیق پائے اس کے او پر پورا اترنے کی کوشش کرے گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” میری یہ باتیں اس لئے ہیں کہ تائم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو اور اس تعلق کی وجہ سے میرے اعضاء ہو گئے ہو ان باتوں پر عمل کرو اور عقل اور کلام الہی سے کام لو تا کہ سچی معرفت اور یقین کی روشنی تمہارے اندر پیدا ہوا اور تم دوسرے لوگوں کو ظلمت سے نور کی طرف لانے کا وسیلہ بنو۔اس لئے کہ آج کل اعتراضوں کی بنیاد طبعی اور طبابت اور ہیئت کے مسائل کی بناء پر ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ: 43) یہ وہ بنیادی بات ہے جس کے متعلق ضرورت تھی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے ان مضامین پر ایک ایسی کتاب لکھی جائے جو دنیا کے اہل علم کو قرآن کی سچائی کا قائل کر سکے اور ان کے پاس جواب نہ رہے۔یہ کام پہلے میں تحریک کرتا رہا ہوں کہ جماعت کے دوسرے مختلف اہل علم سنبھالیں لیکن غالبا ان کے بس کی بات نہیں تھی کیونکہ قرآن کا علم بھی ساتھ ہونا ضروری ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عارفانہ کلام کا علم بھی ضروری ہے اور دنیا کے ان مضامین کا علم بھی ضروری ہے جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تین لفظوں میں بیان فرما دیا۔طبعی ، طبابت اور ہیئت۔یہ تین سائنسیں ایسی ہیں جو سائنس کے ہر مضمون پر حاوی ہیں۔پس آپ نے فرمایا ان پہلوؤں سے جو اعتراض وارد ہوتے ہیں لازم ہے کہ ان کا جواب دیا جائے۔اس لئے لازم ہوا کہ ان علوم کی ماہیت اور کیفیت سے آگاہی حاصل کریں۔اب یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک احسان رہا ہے مجھ پر کہ باوجود ان پڑھ ہونے کے ان علوم کی طرف بچپن ہی سے مجھے توجہ رہی ہے اور ہمیشہ جب بھی کسی رسالے میں یاکسی کتاب میں ایسے علوم جو سائنس کی گہرائیوں سے تعلق رکھتے ہیں اور میرے جیسے کم علم آدمی کے لئے بظاہر ان کا سمجھنا ممکن نہیں تھا، مگر اگر دلچسپی ہو تو سائنس کے علوم بہت گہرائی سے سمجھ آتے ہیں، پس ہمیشہ سے