خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 67 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 67

خطبات طاہر جلد 16 صلى الله 67 خطبہ جمعہ 24 جنوری 1997ء اور آنحضرت ﷺ سے پہلے بشر پیدا ہو چکے تھے لیکن کسی بشر کو اپنی آخری منزل کی خبر نہیں تھی۔ کسی بشر کو یہ نہیں پتا تھا کہ رب العلمین ہے کیا۔ کس شان کا وجود ہے، کس طرح کے جہانوں کی ربوبیت کرتا ہے۔ جب یہ ربوبیت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات پر منتج ہوئی ہے تب ہمیں پتا چلا کہ ربوبیت ہوتی کیا ہے اور عالمین کا خدا رحمۃ للعالمین کی ربوبیت کی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ پس الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ سب تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے سارے جہانوں کو پیدا کیا ان کی ربوبیت فرمائی اور ہمیں اس مقام پر کھڑا کیا اور ہمیں یہ عبادت کا طریق سکھایا کہ اب ساری کائنات کی نمائندگی میں اے محمد رسول اللہ ﷺ کے غلامو تم یہ اقرار کرو اور پورے عرفان کے ساتھ اقرار کرو کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِين رب العالمین کی طرف حمد کے سوا کچھ منسوب ہو ہی نہیں سکتا۔ اب اس ربوبیت پر آپ غور کریں تو دو حصے ربوبیت کے ہیں۔ ایک ہے مادی ربوبیت اور ایک ہے روحانی ربوبیت اور مادی ربوبیت اور روحانی ربوبیت کو آپ ایک دوسرے سے بالکل منقطع کبھی بھی نہیں کر سکتے اور یہ بہت باریک مضامین ، سورہ فاتحہ نے ان کی طرف توجہ دلائی۔ قرآن کریم ان مضامین پر سے مختلف جگہوں پر مزید پردے اٹھاتا چلا جاتا ہے۔ یعنی چابی تو سورۃ فاتحہ کی ہے مگر جب تالے کھلتے ہیں تو نئے سے نئے جہان دکھائی دینے لگتے ہیں ۔ یہ خیال که روحانی ربوبیت کا آغاز انسان کی پیدائش سے شروع ہوتا ہے یہ غلط ہے۔ انسان کی پیدائش پر یہ ربوبیت ایک نیا رنگ اختیار کر لیتی ہے یہ درست ہے لیکن بنیادی طور پر اس کا حمد باری تعالیٰ کے ساتھ ایک اٹوٹ رشتہ ہے۔ جب کوئی چیز پیدا ہو تو اس کو یہ تو پتا ہونا چاہیئے کہ کس نے مجھے پیدا کیا۔ کیا خدا تعالی شعور کی تخلیق سے پہلے پہلے ایک نا معلوم ہستی تھی یہ سوال ہے جو قرآن کریم نے اٹھایا ہے اور پھر جواب اس کا یہ دیتا ہے کہ جو چیز بھی کائنات میں پیدا کی گئی ہے شعور ہو یا نہ ہو، جان ہو یا نہ ہو، ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کر رہی ہے لیکن تم اس کو سمجھتے نہیں۔ اب یہ تسبیح کیسے کر رہی ہے اکثر علماء کا ذہن اس طرف منتقل ہوتا ہے کہ مراد ہے زبان حال سے تسبیح کر رہی ہے۔ یعنی اس پر غور کریں تو وہ ہر قسم کے عیوب سے پاک ہے لیکن یہ مضمون تو پھر جب انسان غور کرنے والا پیدا ہو گا تو تب شروع ہوگا۔ قرآن کریم نے جس عظمت کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا ہے اس میں انسان کو اس کا محتاج نہیں رکھا بلکہ یہ اعلان فرمایا کہ تم نہیں سمجھتے ہم بتا رہے ہیں کہ تسبیح کر رہی ہے۔ تو پھر انسان کے سمجھنے سے