خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 714
خطبات طاہر جلد 16 714 خطبہ جمعہ 26 ستمبر 1997ء آنکھوں سے خود نہیں دیکھ سکتا تھا۔مجھے یقین دلایا گیا پیش کرنے والوں کی طرف سے کہ اب ہم آپ کے مقصد کو سمجھ گئے ہیں، اب سو فیصدی بعینہ وہی چیز ہم بنا کے لے آئے ہیں اب اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوسکتا۔اب جلسے کا دباؤ آپ جانتے ہیں اس دفعہ غیر معمولی تھا اور یہ اس وقت میرے سامنے پیش کیا گیا جب کہ یہ کتاب چھپتی جیسا کہ وعدہ کیا گیا تھا یا نہ چھپتی۔تو میں نے کتاب کے چھپنے کو ترجیح دے دی اور کہا کہ اچھا فلاں صاحب، جو ہمارے تجربہ کار پرانے ہو میو پیتھ سمجھے جاتے ہیں، ان سے کہا کہ یہ میں نے سمجھایا تھا آپ دیکھ لیں کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے واقعہ وہی ہے یا کچھ اور ہی کیا ہوا ہے۔ان صاحب نے اپنی لاعلمی کی وجہ سے بالآخر مجھے یہ تسلی دلائی کہ آپ نے جو کچھ سمجھایا تھا انہوں نے وہ سمجھ لیا ہے اور اب یہ Repertory اسی طرح تیار ہے۔جو تیار ہے اس کا حال میں آپ کو بتا دیتا ہوں۔کوئی مریض جس کو معین طور پر بیماریوں کا کوئی نام یاد نہ ہو ہرگز ان کی Repertory کے ذریعے اپنی بیماری تک نہیں پہنچ سکتا۔بہت سی مثالیں ہیں جو میں نے آپ کے سامنے رکھنے کے لئے تیار کی تھیں مگر میں اس وقت چند مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔مثلاً پیاس کا بیماریوں سے بہت تعلق ہے۔پیاس کم ہو، زیادہ ہو، نہ ختم ہونے والی بھر کی لگی ہو یا تھوڑے تھوڑے پانی کی ہو ہر بیماری کی شناخت میں پیاس ایک اہم کردار ادا کرتی ہے اور Repertory میں پیاس کا کوئی خانہ ہی نہیں ہے۔آپ Repertory تلاش کریں، جیسا کہ میں نے کی تھی، میں حیران رہ گیا پیاس نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔پھر میں نے کہا منہ خشک ہونے کے اندر ہوگا تو منہ دیکھا تو منہ کے اندر کوئی دیکھنے کی چیز نہیں تھی سوائے اس کے کہ منہ کے چھالے اور نا سور اور آگے دوائیوں کے نام لکھے ہیں اور کچھ بتایا نہیں کہ یہ چھالے کس قسم کے ہیں۔تھوک والے منہ کے چھالے ہیں، خشک منہ کے چھالے ہیں، زبان کے کناروں پر ہیں یا زبان کے بیچ میں ہیں۔یہ ساری چیزیں میں اپنے لیکچرز میں سمجھا چکا ہوں۔Repertory اس کو کہتے ہیں کہ اگر انہوں نے منہ کو لینا تھا تو منہ کے اندر زبان کی بات کرتے ، منہ کے اندر اس کے پہلوؤں کے کلوں کی بات کرتے ، کلوں کے چھالے اور ہیں، زبان کے چھالے اور ہیں، زبان کی نوک کی بیماری اور ہے، زبان کے مرکز پر جو علامتیں ظاہر ہوتی ہیں وہ ایک اور چیز ہیں۔تو اگر کسی کی مدد کرنی ہو کہ وہ صحیح بیماری کو شناخت کر سکے تو اول مثلاً منہ کے نیچے یہ