خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 715
خطبات طاہر جلد 16 715 خطبہ جمعہ 26 ستمبر 1997ء چاہئے تھا کہ خشک منہ سے تعلق رکھنے والی دوائیں۔خشک منہ سے تعلق رکھنے والی ایسی دوائیں جن میں جتنا بھی پانی پیا جائے منہ پھر بھی خشک رہے گا۔منہ خشک، وہ دوائیں دی جاتیں، صفحے دئے جاتے ، منہ خشک، وہ بیماریاں منہ خشک ہونے کی جو اعصابی بے چینی سے تعلق رکھتی ہوں جیسا کہ آرسنک اور بار بار گھونٹ گھونٹ پینے کو جی چاہتا ہو تو منہ خشک اور پیاس کا بھی ذکر ساتھ ہی چل پڑتا۔گلوں کے زخم اور ہیں، زبان کے پہلوؤں کے زخم اور ہیں، زبان کے پچھلے حصے کے زخم اور ہیں، زبان کی نوک کے زخم اور ہیں، یہ ساری چیزیں اسی ہیڈنگ کے نیچے الگ الگ صفحوں کے سامنے لکھی ہوتیں پھر سطروں کا نمبر ہمارے کام آسکتا تھا۔پھر کسی مریض کو اپنے منہ کی بیماری میں جب ضرورت پیش آتی وہ کسی معین صفحے تک پہنچ سکتا تھا۔مگر اب تو اس کے نیچے جو فہرست دی ہوئی ہے چھالوں کی اس میں چالیس پچاس دوائیں ہوں گی اور پڑھنے والے کو بالکل پتا نہیں چل سکتا کہ یہاں کون سے چھالوں کا ذکر ہے، کون سے ناسوروں کا ذکر ہے میں کہاں تلاش کروں۔وہ صفحہ نمبر اور سطر نمبر سے ایک جگہ پہنچ تو سکتا ہے مگر بعض دفعہ چالیس، پچاس پچاس دوائیں ایک عنوان کے نیچے اسی طرح دی ہوئی ہیں اور ان میں سے کسی دوائی کے متعلق نہیں لکھا کہ اس دوائی کا اس بیماری سے تعلق ہو تو فلاں صفحے کو دیکھو، اس دوا کا فلاں بیماری سے تعلق ہو یا اس بیماری کا فلاں جسم کے حصے سے تعلق ہو تو فلاں جگہ دیکھو یہ کوئی ذکر نہیں۔اب میں نے جس چیز کو تلاش کرنا تھا میں نے پھر اپنی یاد داشت سے کیا کیونکہ پچاس یا ساٹھ صفحوں کا مطالعہ ایک ایک کر کے دیکھنا ایک ایسا کاردار د تھا جو خود مجھے اپنی ذات میں ایک مصیبت دکھائی دے رہا تھا کہ بے چارے احمدیوں کو میں نے کس مصیبت میں ڈال دیا۔وہ بھولے بھالے محض اس لئے مجھے تکلیف نہیں دیتے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ چلو کتاب تو لکھ دی کوئی فائدہ تو ہو گیا باقی ہم خود تلاش کر لیں گے۔محض مجھے تکلیف سے بچانے کے لئے انہوں نے خاموشی برداشت کی ہے ورنہ کوئی ہومیو پیتھی کا علم رکھنے والا اس Repertory کو جو ہمارے سامنے ہے اس کو پھاڑ کے پھینک دے۔کسی کام کی نہیں ہے، کوئی بھی فائدہ نہیں سوائے اس کے کہ بعض بیماریاں آپ کو کہیں گی فلاں صفحہ دیکھو۔وہاں ایک لفظ کالا کیا ہوگا۔اس کا منہ کالا ہے اس سے زیادہ اس Repertory میں کوئی بھی فائدہ نہیں کہ آپ اسے دیکھ سکیں۔عجیب و غریب حرکتیں ہیں مثلاً ایک جگہ لکھا ہوا ہے ”جھٹکا۔اب جھٹکا کیا چیز ہے۔کون پاگل ہے جو جھٹکے میں اپنے اعصاب کے پھڑ کنے کو تلاش کرے گا۔کون پاگل ہے جو