خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 713 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 713

خطبات طاہر جلد 16 713 خطبہ جمعہ 26 ستمبر 1997ء نہیں کیا کہ پہلے سر پھر ناک، کان، منہ، چہرہ ، گردن، جسم کا باہر کا حصہ، جسم کا اندر کا حصہ ان سب کی تفاصیل الگ الگ عنوانات بنا کر دے۔اس نے اپنے تجربے سے ہو میو پیتھی کے فلسفے پر روشنی ڈالی اور مختلف ذکر مختلف جگہ پھیلے پڑے ہیں۔سر کا ذکر اس کے لیکچرز کے آخر پر بھی آسکتا ہے۔مختلف دواؤں کا جو رابطہ ہے اس کو بھی وہ بیان کرتا چلا جاتا ہے۔میرے پاس اتنا وقت تو نہیں تھا کہ جو آج کل مروجہ کتا بیں ہیں مثلاً بورک کی کتاب ہے اس کے مطابق تفصیل سے تیاری کر کے ہر جسم کے حصے پر الگ الگ بات کرتا۔اس کے باوجود میری خواہش تھی کہ جماعت کو ہومیو پیتھی کا کچھ علم ہو جائے اور اپنا علاج کرنے میں وہ خود کفیل ہو سکے۔اس خواہش کی وجہ سے میں نے لیکچرز کا یعنی ان تقاریر کا آغاز کیا جو ہومیو پیتھی کے سلسلے میں میں ایک کلاس میں دیتا رہا۔آخر پر پہنچ کر مجھے یہ احساس پیدا ہوا کہ یہ ناممکن ہے کہ احباب جماعت جن کو ہو میو پیتھی کے آغاز کا بھی پورا علم نہیں اگر وہ میری کتاب کو پوری طرح سمجھ بھی جائیں تو پھر وہ بیماریوں سے واپسی کا سفر اختیار کرسکیں اور دواؤں کی صحیح نشاندہی کر سکیں ، اس صفحے تک پہنچ سکیں جن صفحوں پر ان دواؤں کا ذکر ہے۔اس وجہ سے میں Repertory پر زور دیتا رہا۔اس کو Repertory کہتے ہیں اور میں نے بہت دفعہ اس ٹیم کو اور اس ٹیم کے سر براہ کو سمجھایا کہ دیکھو یہ مقصد ہے۔ہر انسان جس کا بیماری سے رابطہ ہو وہ اس بیماری کی الگ شناخت رکھتا ہے اور ضروری نہیں کہ اس بیماری کو آپ نے جس جگہ بیان کیا ہے وہ اس بیماری کو وہیں جاکے تلاش کرے۔ایک بیماری کی مختلف علامتیں ہو سکتی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ دیکھنے والا اپنے تجربے کے لحاظ سے ان علامتوں کو کسی اور جگہ تلاش کر رہا ہو اور آپ نے جو Repertory بیان کی ہے اس کو کسی اور جگہ دیکھنا چاہئے جس کا ہوسکتا ہے اس کو بالکل علم نہ ہو۔یہ Repertory سے متعلق امور تھے جو میں نے اپنی دانست میں تفصیل سے سمجھا دیئے۔اس الا سکا والے سفر کا ایک بڑا فائدہ مجھے یہ پہنچا ہے کہ عام طور پر میں بیماریوں کے لئے بورک کا میٹریا میڈیکا استعمال کرتا ہوں وہ مہیا نہیں تھا تو میں نے اپنے عملے سے کہا کہ لا ؤ، سلیم صاحب ہمارے یہ کام کر رہے ہیں ) کہ اچھا میرے والی کتاب ہی لے آؤ میں اسی میں دیکھ لوں۔وہاں جو میں نے Repertory دیکھی اس سے تو میرے ہوش اڑ گئے۔یہ Repertory میرے تصور کے قریب تک نہیں پہنچتی۔باوجود اس کے کہ ہمارے دفتر کے ایک عملے میں ایک ایسے تجربہ کار ہو میو پیتھ موجود ہیں، جلسے کا دباؤ غیر معمولی تھا Repertory کو میں آخری دفعہ اپنی