خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 712 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 712

خطبات طاہر جلد 16 712 خطبہ جمعہ 26 ستمبر 1997ء سارا کام منظم کریں تا کہ آئندہ جماعت کو اگر کوئی غلط معلومات پہنچی ہوں تو درست بھی ہو جائے اور جماعت کا جغرافیائی علم پہلے سے بڑھ جائے اور خطبات کا ایک یہ بھی مقصد ہوتا ہے جو براہ راست دینی تو نہیں مگر چونکہ آنحضرت ﷺ نے علم کے متعلق فرمایا کہ العلم علمان_علم الادیان و علم الابدان تواس لئے میں اپنے خطبات میں بعض مادی دنیا کی معلومات بھی جماعت کو مہیا کرتا رہتا ہوں جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا جو علمی معیار ہے وہ دینی طور پر ہی اونچا نہیں بلکہ دنیاوی طور پر بھی اونچا ہے اور اونچا ہوتا چلا جارہا ہے۔پس انشاء اللہ یہ شمالی حصوں کے متعلق جب بھی معلومات مکمل ہو جائیں گی میں احباب کے سامنے ان کو پیش کر سکوں گا۔وہ ایک اور چیز ، ایک اور فائدہ جو اس دوران مجھے حاصل ہوا وہ فائدہ بھی تھا اور ذہنی تکلیف کا موجب بھی تھا لیکن بعد میں شاید مجھے اس کا ذکر کرنے کا تفصیل سے موقع نہ ملے میں اب آپ کو سمجھا رہا ہوں۔میری ایک کتاب ہے ہو میو پیتھی کے متعلق جس کو میں نے جلسے میں احباب جماعت کے سامنے پیش کیا تھا۔یہ کتاب ہے، بہت خوبصورت سرورق ہے اور اس کی بعض تعریفیں میں نے خود کی تھیں جو بالکل غلط تھیں اس لئے میں معذرت بھی پیش کر رہا ہوں اور یہ وعدہ بھی کر رہا ہوں کہ انشاء اللہ اس کتاب کی تصحیح کی جائے گی۔وہ معلومات میں نے غلط اس لئے پیش کیں کہ مجھے غلط معلومات دی گئی تھیں اور اس لحاظ سے میرا قصور نہیں تھا مگر یہ قصور ضرور تھا کہ مجھے خود دیکھ کر کتاب سے معلوم کر لینا چاہئے تھا کہ یہ معلومات درست نہیں ہیں۔جن احباب کی یا خواتین کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ ریپرٹری (Repertory) تیار کریں اس کے متعلق جلسے میں بھی میں نے بیان کر دیا تھا کہ میں بار بار سمجھا چکا ہوں سمجھا چکا تھا ان کو کہ اس کو Repertory نہیں کہتے ،Repertory اس طرح تیار کی جاتی ہے لیکن بالآخر بہت کچھ سمجھانے کے بعد انہوں نے صحیح Repertory میرے سامنے پیش کر دی، میں ضمناً بتا دوں کہ Repertory سے مراد وہ آخری باب ہے ہو میو پیتھی کتابوں کا جس میں علامتوں کے ذریعے ہر شخص آسانی سے متعلقہ دوا کی طرف منتقل ہو سکتا ہے اور اس صفحے کی نشاندہی کر سکتا ہے جس پر متعلقہ دوا کا ذکر ہو یہ Repertory ہے۔عام طور پر ایسے لیکچرز میں جہاں با قاعدہ جسم کے حصوں کا الگ الگ ذکر نہ ہو ان میں Repertory بہت ضروری ہوا کرتی ہے مثلاً کینٹ ہے اس کا ہومیو پیتھک فلسفے پر ایک لیکچروں کا سلسلہ ہے۔کینٹ نے یہ طریق اختیار