خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 704 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 704

خطبات طاہر جلد 16 704 خطبہ جمعہ 19 ستمبر 1997ء اس کا ہو جانا یقینی ہو۔ یہ فرق ہے فرضی باتیں کرنے والے اور حقیقی خدا کی تائید سے باتیں کرنے والوں کے درمیان۔ خدا کے بندے جب ہیئت کے خلاف کوئی بات کرتے ہیں تو خلاف ہیئت یعنی قانون قدرت کے خلاف ہونے کے باوجود وہ زمانہ اس کی تائید کرتا ہے کہ ایسا ہوا ضرور ہے اگر چہ یہ خلاف قانون قدرت ہے۔ پس جو معجزہ میں آپ سے چاہتا ہوں وہ یہ معنی رکھتا ہے کہ ہو جائے اور بظاہر اس کا ہونا ناممکن ہو۔ یہ معجزے قرآن آج بھی دکھا سکتا ہے اور ضرور دکھائے گا۔ کینیڈا کو بدلنا یعنی روحانی طور پر اس کو اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق ڈھالنا بہت بڑا معجزہ ہے۔ اتنا عظیم الشان معجزہ ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ کینیڈا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک نظر کر کے دیکھیں کتنا بڑا بڑا معجزہ ہے۔ کتنے بے شمار انسان یہاں بستے ہیں لیکن ان کو الہی تقدیر کے مطابق تبدیل کرنا ممکن ہے اور آپ سب کے لئے ممکن ہے۔ نسخہ وہی ہے جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ اپنے اندر ایسی تبدیلیاں پیدا کریں جو اللہ کو پسند آئیں اور ان تبدیلیوں کے نتیجہ میں اللہ قوم میں وہ تبدیلیاں پیدا کرے جو آپ کی طاقت سے بڑھ کر ہیں ان معنوں میں کہ آپ نیکی اختیار بھی کریں تب بھی آپ خود بخو دوہ تبدیلیاں پیدا نہیں کر سکتے۔ آپ کی نیکیاں پہلے مقبول ہوں گی ، آپ کی قربانیاں پہلے خدا کی نظر میں آئیں گی، ان قربانیوں پر جب اللہ نظر رکھے گا تو ایسی تبدیلیاں پیدا کرے گا جو دیکھ کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ آپ کی توقعات سے بڑھ کر ہوں گی۔ * پس جو باتیں میں آپ سے کہہ رہا ہوں یہ اگر چہ عجیب ضرور ہیں مگر ان کا ہونا ممکن ہے اور ہوتا رہا ہے اور وہ ابتداء میں جو مضمون میں نے آپ کے سامنے رکھا تھا یعنی مالی لحاظ سے خدا تعالیٰ نے جماعت کی توفیق بڑھانی شروع کی اس کے متعلق یہ خبر دینا کہ ایسا ہو جاتا ہے دیکھیں وہ میرے بس کی بات نہیں تھی اور دنیا کے قوانین بتا رہے تھے کہ جماعت کی تو جائیدادیں لٹ رہی ہیں ، لوگ احمد یوں کو غریب کرنے کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، حکومتیں بعض جگہ ان کی تائید میں ہیں ، ہر جگہ یہ مخالفت ہوئی یہاں تک کہ معلوم ہوتا تھا کہ ان کو پیس کر صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا لیکن گزشتہ 1974 ء یا 74ء کہنا چاہئے ۔ 1984ء کے دور کے بعد آپ اگر غور کریں تو آ۔ تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ جن جن کے اموال کو خطرہ لاحق ہوا تھا، ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوا تھا ان کو اللہ تعالیٰ نے