خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 703 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 703

خطبات طاہر جلد 16 703 خطبہ جمعہ 19 ستمبر 1997ء تہمت لگائی ہے، ہم نے تو چاند کو دوٹکڑے ہوتے نہیں دیکھا اور عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ وہ لوگ اس معجزہ کو سراسر جھوٹ اور افترا خیال کر کے پھر بھی چپ رہتے بالخصوص جبکہ ان کو آنحضرت ﷺ نے اس واقعہ کا گواہ قرار دیا تھا۔(چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ: 411،409) اب یہ جو واقعہ ہے یہ علم ہیئت کی گواہی یا سائنسی شواہد کے خلاف ایک معجزہ کے ہونے کے متعلق ایک حیرت انگیز روشنی ڈالنے والا واقعہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت تک یہ واقعہ ایسا تھا یا ہو سکتا تھا جس کے متعلق سائنس کی گواہی مخالف ہوتی اور اس کے باوجود سائنسدانوں کو اس کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ آسمان پر رونما ہونے والے واقعات بعض دفعہ زمین سے ایک طرح دکھائی دیتے ہیں مگر وہ ویسے نہیں ہوتے کسی اور طرح سے ہوتے ہیں۔یہ جب سے فلکیات کے ماہر فلکیات کی تاریخ پر نظر رکھ رہے ہیں وہ یہی بیان کرتے ہیں کہ بہت سے معمے ہیں جن کو ہم خلاف قدرت سمجھتے تھے لیکن خلاف قدرت نہیں نکلے۔پس اگر پختہ گواہی موجود ہو تو خلاف قدرت قرار دے کر اسے نظر انداز کرنا ہرگز ایک بچے انسان کا کام نہیں۔قانون قدرت بعض دفعہ بعد میں سمجھ آیا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت تک اس قانون کو سمجھا نہیں گیا تھا۔اب ایسے شواہد مل رہے ہیں جن سے ثابت ہو سکتا ہے، ہو چکا ہے میں بیان بھی کر چکا ہوں کہ چاند پر ایسا واقعہ چاند کے عملاً پھٹنے کے بغیر بھی رونما ہوسکتا تھا۔پس واقعہ کا ہونا قطعی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔خوارق عادت بھی ہو تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔اللہ ایک بات کی طاقت رکھتا ہے وہ کر سکتا ہے۔اگر زمین پر اس کے نشان انکار کی حد سے آگے نکل چکے ہوں تو پھر کوئی معجزہ مانے یا نہ مانے اسے اس واقعہ کی حقیقت کا انکار کرنا پڑے گا۔یہ چند باتیں میں آپ کے سامنے رکھ کر آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ زمین پر بھی ایک معجزہ رونما ہونے والا ہے اور وہ احمدیت کے غلبے کا معجزہ ہے۔اس غلبے کے معجزے میں آپ شامل ہوں۔آپ میں سے ہر وجود اپنا حصہ ڈالے اور یا در کھے کہ اپنے اندر جتنی بھی پاک تبدیلیاں وہ کرے گا اسی قدر خدا کی تائید اور روح القدس کی تائید اس کو حاصل ہوگی۔وہ ایسے معجزے بھی دکھا سکتا ہے جسے آج کا زمانہ خلاف ہیت سمجھے اور پانچ سو سال یا ہزار سال کا زمانہ ثابت کرے کہ وہ خلاف ہیئت نہیں تھا مگر