خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 702 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 702

خطبات طاہر جلد 16 702 خطبہ جمعہ 19 ستمبر 1997ء گیا ہے۔اب ظاہر ہے کہ یہ نیا دعویٰ نہیں بلکہ قرآن شریف تو اس کے ساتھ ان کافروں کو گواہ قرار دیتا ہے جو سخت دشمن تھے اور کفر پر ہی مرے تھے۔ی علم ہیئت کی طرف سے اس معجزے پر اعتراض کرنے والوں کے لئے ایک ایسا جواب ہے جو اس وقت بھی قوی تھا اور آج بھی قوی ہے کیونکہ قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ دیکھو چاند دو ٹکڑے ہو گیا بلکہ اس کے ساتھ وہ کافر جو سارے ماحول میں غالب اکثریت رکھتے تھے ان کی طرف اشارہ کر کے ایک پیشگوئی بھی کر دی کہ وہ یہ کہیں گے کہ یہ جادو ہے اور ایسا جادو ہے جو مستمر ہے یعنی اس قسم کے جادو وہ شخص محمد کر کے دکھاتا رہتا ہے۔اب یہ جو اعجاز ہے قرآن کریم کا کہ دشمنوں کو گواہ ٹھہرایا اور ان کے گواہ ٹھہرانے کو ایک پیشگوئی کے طور پر بیان کیا اور ان کو تو فیق نہیں دی کہ اس گواہی کا انکار کر سکیں ، جب آنحضرت ﷺ نے قمر کی طرف یعنی چاند کی طرف انگلی اٹھائی تو فرمایا دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا اور فرمایاؤ يَقُولُوا یہ کہیں گے یہ لوگ کہ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ۔یہ جادو ہے جو ہمیشہ دکھایا جاتا ہے تو یہ پیشگوئی کرنا اور مخالفین میں سے ایک کو بھی توفیق نہ دینا کہ وہ تائیدی گواہی نہ پیش کریں اور انکار کر دیں کہ ایسا واقعہ ہی نہیں ہوا۔آپ فرماتے ہیں اس شہادت کے بعد کسی علم ہیئت رکھنے والے کے اعتراض کی کوئی بھی اہمیت باقی نہیں رہتی کہ ایسا نہیں ہوا ہوگا۔یہ لازماً ہوا ہے۔آگے فرماتے ہیں: قرآن شریف تو اس کے ساتھ ان کافروں کو گواہ قرار دیتا ہے جو سخت دشمن تھے اور کفر پر ہی مرے تھے۔یعنی کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ ان میں سے وہ جو مسلمان ہو گئے تھے انہوں نے بعد میں اپنی نامسلمانی حالت کے وقت کی گواہی کو چھپالیا اور یہ ظاہر کیا کہ گویا یہ واقعہ ہو گیا ہوگا اس لئے کہ وہ مسلمان ہو گئے تھے۔فرمایا جن کی گواہی قرآن پیش کر رہا ہے ان میں سے بہت سے کفر کی حالت میں مرے اور کفر کی حالت میں ان کو مرنا ثابت کرتا ہے کہ ایک سخت مخالف دشمن کی گواہی قرآن کریم کے اس معجزے کی تائید میں آخر وقت تک بولتی رہی۔اب ظاہر ہے کہ اگر شق القمر وقوع میں نہ آیا ہوتا تو مکہ کے مخالف لوگ اور جانی دشمن کیونکر خاموش بیٹھ سکتے تھے۔وہ بلاشبہ شور مچاتے کہ ہم پر یہ