خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 701
خطبات طاہر جلد 16 701 خطبہ جمعہ 19 ستمبر 1997ء واقعہ میری آنکھوں کے سامنے گزرا ہے۔یہ تو ہم نے قرآن شریف کی اس زبر دست طاقت کو بیان کیا ہے جو اپنے پیروی کرنے والوں پر اثر ڈالتی ہے لیکن وہ دوسرے معجزات سے بھی بھرا ہوا ہے۔اس نے اسلام کی ترقی اور شوکت اور فتح کی اس وقت خبر دی تھی جبکہ آنحضرت اللہ مکہ کے جنگلوں میں اکیلے پھرا کرتے تھے اور ان کے ساتھ بجز چند غریب اور ضعیف مسلمانوں کے اور کوئی نہ تھا اور جب قیصر روم ایرانیوں کی لڑائی سے مغلوب ہو گیا اور ایران کے کسری نے اس کے ملک کا ایک بڑا حصہ دبا لیا تب بھی قرآن شریف نے بطور پیشگوئی کے یہ خبر دی کہ نو (9) برس کے اندر پھر قیصر روم فتح یاب ہو جائے گا اور ایران کو شکست دے گا چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا“۔اب یہ وہ معجزات ہیں اور تائیدات الہیہ ہیں جو خود بول رہی ہیں۔ایسے واقعات اگر کوئی شخص دکھا سکتا ہے تو بتائے اور پیش خبریاں کرے کہ یہ واقعہ ہونے والا ہے جب کہ اس کا نام ونشان بھی کوئی نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے ہیں کہ قرآن جب بولتا ہے تو اپنے حقائق اور دلائل ساتھ رکھتا ہے، خود ثابت کرتا ہے کہ کس طرح وہ اپنے کلام میں سچا ہے۔دوسری بات جو بہت اہم ہے جو آجکل اس زمانے کے فلسفیوں اور سائنسدانوں کی محل نظر ہے وہ یہ ہے۔”ایسا ہی شق القمر کا عالی شان معجزہ جو خدائی ہاتھ کو دکھلا رہا ہے قرآن شریف میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ کی انگلی کے اشارے سے چاند دوٹکڑے ہو گیا اور کفار نے اس معجزہ کو دیکھا۔اس کے جواب میں یہ کہنا کہ ایسا وقوع میں آنا خلاف علم ہیئت ہے یہ سراسر فضول باتیں ہیں کیونکہ قرآن شریف تو فرماتا ہے اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَاِنْ يَّرَوْا أَيَةً يُعْرِضُوا وَ يَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ ( القمر : 2، 3) یعنی قیامت نزدیک آ گئی اور چاند پھٹ گیا اور کافروں نے یہ معجزہ دیکھا اور کہا کہ یہ پکا جادو ہے جس کا آسمان تک اثر چلا