خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 698
خطبات طاہر جلد 16 698 خطبہ جمعہ 19 ستمبر 1997ء لَّكُمْ فُرْقَانًا (الانفال: 30) اس وعدہ کے موافق خدا نے یہ سب مجھے عنایت کیا ہے“۔اب یہ تین چیزیں ہیں جن کا وعدہ ہر ایک سے ہے۔یہ خیال درست نہیں کہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ ہے۔ہر فرد بشر سے اللہ تعالیٰ قرآن کی معرفت یہ وعدہ کرتا ہے۔یہ تین باتیں اس پر فرض ہو جاتی ہیں کہ وہ ضرور ایسا کر کے دکھائے گا اس لئے اپنی ذات کو ان وعدوں سے محروم کیوں رکھتے ہیں۔پہلا ہے لَهُمُ الْبُشْرى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا۔ان کے لئے اس دنیا ہی میں خوشخبری ہے۔پس وہ لوگ جو خدا سے تائید پاتے ہیں وہ بے یارو مددگار نہیں چھوڑے جاتے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کو اس دنیا میں وہ خوشخبریاں نہ ملیں جو بہت سے نیک کہلانے والے لوگ آخرت سے منسوب کر دیتے ہیں کہ آخرت میں ملیں گی۔اس دنیا میں بھی خدا تعالیٰ ان کو ضرور خوشخبریاں دیتا ہے۔اور دوسرا وعدہ یہ ہے أَيَّدَهُمْ بِرُوحِ مِّنْهُ۔روح القدس سے ان کی تائید ہوتی ہے۔ایسے حالات میں وہ باتیں کہتے ہیں جو بظا ہر ناممکن حالات ہوتے ہیں۔مگر جو روح القدس ہے اس کی تفصیل میں یہاں جانے کی ضرورت نہیں پہلے میں بیان کر چکا ہوں کہ روح القدس کی کیا حقیقت ہے۔مگر جو بھی حقیقت ہے وہ ایک غیر معمولی طاقت ہے جو جب ساتھ دینا شروع کرتی ہے تو پھر کبھی نہیں چھوڑتی۔روح القدس کی دیگر صفات میں سے ایک یہ مفت ہے۔روح القدس اس شخص کی الہی تائید کو نہیں کہتے جو تائید بعد میں اس کی بداعمالیوں کی وجہ سے یا بدنصیبی سے اس کا ساتھ چھوڑ دے۔ایسی تائید کو اس وقت جبکہ یہ تائید ہورہی ہوا اعجازی تائید کہا جا سکتا ہے، اللہ کی طرف سے تائید کہا جاسکتا ہے مگر اگر وہ چھوڑ دے تو وہ تائید روح القدس کی تائید نہیں۔کئی لوگ سمجھتے نہیں کہ عام تائید میں اور روح القدس کی تائید میں فرق کیا ہے۔یہ بنیادی فرق ہے۔روح القدس یعنی پاکی کی روح کی تائید یہ ایک ایسی تائید ہے جو زندگی بھر پھر بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتی۔ناممکن ہے کہ روح القدس اترے اور پھر انسان کو بے یار و مددگار چھوڑ کے واپس چلا جائے۔تیسری بات آپ فرماتے ہیں يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا تمہارے لئے فرقان بھی پیدا کرے گا یعنی دنیا تمہارے اور تمہارے غیر کے درمیان فرق محسوس کرے گی اور وہ الہی فرقان وہ فرق دکھا دے گا جو خدا کے بندوں میں اور ان میں جو خدا کے بندے نہیں بننا چاہتے ایک فرق کر کے دکھایا