خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 692 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 692

خطبات طاہر جلد 16 692 خطبہ جمعہ 19 ستمبر 1997ء نکل گئی۔ مگر آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ تقدیر الہی کس طرح کام کرتی ہے۔ تقدیر الہی نے ایسا کام کیا کہ پہلی بولی میں کچھ قانونی سقم پیدا ہوئے اور اس وقت پیدا ہوئے جبکہ ہمیں معلوم ہو گیا تھا کہ سب نے کتی کتنی بولی دینی ہے اور ان استقام کے نتیجے میں مجبورا انکو پہلی تمام بولی کو منسوخ کرنا پڑا۔ جب وہ منسوخ ہو گئی تو پھر اس کے بعد دوبارہ بولی مانگی گئی تو ہمیں پتا تھا کہ کس نے کیا بولی دی ہے، سب کو پتا لگ گیا تھا۔ اس کے بعد بھی یہ لوگ اسی طرح اکڑ کے بیٹھے رہے کہ ہم نے بولی آگے نہیں بڑھانی ۔ اللہ تعالیٰ لطف الرحمن صاحب کو جزاء دے انہوں نے کہا یہ تم کیا حماقت کر رہے ہو، نظر آ رہی ہے ساری بولی ، بڑھاؤ میں ذمہ دار ہوں ۔ آپ اجازت بھی مانگیں ، ضرور مانگیں لیکن میں آپ کو بتاتا ہوں کہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ہم اس رقم کو پورا نہ کر سکیں۔ اس لئے آپ آگے بڑھیں اور بولی دیدیں۔ چنانچہ آٹھ لاکھ کی بجائے نو لاکھ کی بولی دے دی گئی اور سب سے اونچی جو بولی تھی وہ پندرہ ہزار ہم سے پیچھے رہی۔ تو اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ جگہ ہمیں دلوادی جس کے حاصل کرنے کا بظاہر کوئی امکان نہیں تھا۔ مجھ سے رستے میں ہی لطف الرحمن صاحب نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا ہے کہ ان کے ابا جان ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ تمہیں بھی خدا توفیق دے تو کوئی مسجد ساری کی ساری تم بنواؤ۔ تو انہوں نے کہا ہے کہ اب میں وعدہ ساری کی ساری کا تو ابھی نہیں کر سکتا ، یا غالباً کیا ہو گا تو میرے کانوں نے سنا نہیں، مگر انہوں نے کہا ہے کہ میری دلی خواہش ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے تو یہ جو بعد کا کافی بڑا کام ہے، نو لاکھ ڈالر دینے کے بعد جب زمین ہمیں مل گئی تو بعد میں جو مسجد کی تعمیر کا بڑا کام ہے اس میں انہوں نے اپنی ذاتی زیادہ سے زیادہ شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق بخشے۔ یہ جو مالی اضافے ہو رہے ہیں ان کے متعلق میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ کچھ دیر پہلے جبکہ جماعت کا بجٹ ابھی چند کروڑ نہیں تھا میں نے جماعت کو مطلع کیا تھا کہ میں جس طرح اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور فضلوں کو دیکھ رہا ہوں مجھے یقین ہے کہ اگلی صدی سے پہلے جماعت کا بجٹ کروڑوں کی بجائے اربوں میں ہو جائے گا ۔ یہ اس وقت کہا تھا جب ابھی بیس پچیس کروڑ کے پھیر میں بات چل رہی تھی اور سارا ریکارڈ موجود ہے الفضل میں ۔ چنانچہ خدا کے فضل سے خدا تعالیٰ کی تقدیر پر نظر رکھتے ہوئے، یہ جانتے ہوئے کہ جب بھی کوئی بڑا ابتلا آیا ہے اس کے بعد جو انفس کی ترقی ہے اس کے ساتھ اموال میں بھی غیر معمولی ترقی ہوئی ہے۔ بعض ابتلاؤں کی میں نے نشاندہی کی، تاریخی طور پر