خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 691
خطبات طاہر جلد 16 691 خطبہ جمعہ 19 ستمبر 1997ء جماعتوں کو اب اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ انہوں نے شرافت کا سلوک کیا ہے۔ہماری شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ حسب سابق گیمبیا کی ہرممکن مدد کریں۔دنیا کے ہر ملک سے جہاں تک گیمبیا کے عوام کی خدمت کا تعلق ہے جو بھی مددممکن ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو جاری رکھیں۔انشاء اللہ تعالیٰ۔دوسری بات میں کینیڈا سے متعلق کہنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کینیڈا میں کچھ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دولت عطا فرمائی ہے جن کا مزاج پہلے ہی سے خدمت دین کی طرف مائل تھا اور یہ جو سلسلہ ہے یہ سب دنیا میں جاری ہو چکا ہے اس کا صرف کینیڈا سے تعلق نہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ کثرت کے ساتھ احمدیوں کو جو سب دنیا میں پھیلے پڑے ہیں اچانک ایسے مواقع مل رہے ہیں کہ وہ بڑی بڑی مالی کمپنیاں بنارہے ہیں، بڑے بڑے ایسے مواقع ان کو نصیب ہیں کہ وہ لاکھوں سے کروڑوں میں داخل ہو گئے ہیں اور ان میں سے کسی کو سمجھ نہیں آرہی کہ یہ واقعہ کیا ہے۔میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ اس واقعہ میں دو باتیں ہیں جو میں نے کچھ عرصے سے محسوس کرنی شروع کیں۔کچھ ایسے لوگ تھے جن کے پاس دولتیں تھیں مگر جماعت سے ان کا اخلاص کا تعلق نہیں تھا۔جو کام کرتے تھے اس میں کچھ دکھاوا پایا جاتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کو جیسے مکھن سے بال نکال کے پھینک دیا جاتا ہے اس طرح نکال کے باہر پھینک دیا اور جماعت کو اس کے نتیجے میں جو نقصان پہنچ سکتا تھا کوڑی کا بھی نقصان نہیں پہنچا بلکہ اس کے برعکس غیر معمولی طور پر خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کی مالی تائید فرمائی ہے۔یہ سلسلہ کچھ عرصے سے جاری ہے اور میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ مجھے کبھی بھی نئے کاموں کے لئے جماعت کو غیر معمولی طور پر کوشش کر کے بیچ میں شامل کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔میں حسب توفیق اعلان کرتا ہوں اور بارش کی طرح اس ضرورت کے لئے روپیہ گرنا شروع ہو جاتا ہے اور کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی مجھے مالی فکر نہیں ہوئی حالانکہ جماعت نے اس عرصے میں بہت بڑے بڑے منصوبے بنائے ہیں، بہت بڑے بڑے منصوبوں پر کام کر کے ان کو مکمل کیا ہے۔خود یہ جگہ جہاں ہم آج بیٹھے ہوئے ہیں اس کا حاصل ہونا بھی ایک معجزہ ہے ورنہ ابتداء میں یہ جگہ ہمارے ہاتھ سے نکل گئی تھی کیونکہ ابتداء میں آٹھ لاکھ کی جماعت احمدیہ نے مجھ سے Bid منظور کروائی تھی اور بجائے اس کے کہ مجھے لکھتے کہ کچھ زیادہ کر دیں اسی پہ مٹھی بند کر کے قائم بیٹھے رہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری Bid سے بڑی پہ بین بڈز Bids یعنی اور زیادہ پیشکشیں غیروں نے کیں اور صاف ظاہر تھا کہ اب یہ جگہ ہمارے ہاتھ سے