خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 687 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 687

خطبات طاہر جلد 16 687 خطبہ جمعہ 12 ستمبر 1997ء کی نعمت سے ہمیں محروم کیا۔ایک عجیب منظر تھا۔ہمارے امیر صاحب کا فون Jam ہو جاتا رہا۔سارے گیمبیا سے ان کو فون ملنے شروع ہوئے ، سارا دن یہی اطلاعات، غیر احمدی فون کرتے تھے۔کہتے تھے یاد رکھیں سارا گیمبیا آپ کے ساتھ ہے اور سارا گیمبیا ان بد معاشوں کے خلاف ہے جو یہ حرکت کر رہے ہیں۔یہ گیمبیا کا طبعی رد عمل تھا۔اس رد عمل کے پہنچنے سے پہلے میں یہ فیصلہ کر چکا تھا۔اس سے ان کو اتنی خوشی پہنچی کہ میں مثال کے طور پر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔خلاصہ یہ ہے کہ ایک اخبار نے کھل کر لکھا کہ اے احمدی جانے والے ڈاکٹر و! تم ہمیں بہت پیارے ہو تمہیں ہمارے پاس واپس آنا چاہئے۔ہم تمہیں ترس رہے ہیں۔سارے گیمبیا کے عوام تمہاری واپسی کے منتظر ہیں اور جب میرا یہ فیصلہ ان کو پہنچا تو ڈیلی آبزرور اخبار نے اپنی اشاعت میں ایڈیٹوریل میں لکھا ”حضور انور کا شکریہ کہ گیمبیا کے عوام پر رحم کرتے ہوئے ڈاکٹروں کو فوری طور پر واپس بھجوانے کا حکم دیا ہے۔مزید لکھتا ہے کہ اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ احمدی گیمبیا کے عوام سے محبت کرتے ہیں۔ان کو حکومت کی کوئی پرواہ نہیں۔اس طرح ڈرامہ اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔اب انشاء اللہ کل ڈاکٹر لئیق صاحب اور پاشا صاحب کی بکنگ اگر وہ قائم رہی کل ہفتہ کے روز یہ واپس پہنچیں گے اور ان کے پہنچنے پر مجھے یقین ہے جس طرح گیمبیا کے عوام خوش ہوں گے اور ان کا استقبال کریں گے وہ ایک تاریخی چیز ہوگی۔مگر پھر بھی ہمیں کچھ انتظار کرنا ہوگا کہ باقی سب کو واپس بھجوائیں کیونکہ ابھی تک تو بہر حال یہ بات مستحکم ہو چکی ہے کہ انہوں نے اپنے فیصلے بدل لئے ، سب کچھ ختم کر دیا، احمدیوں کے مسلمان ہونے کا قطعی اقرار کر لیا لیکن جب تک پیشخص حکومت پر قائم ہے اس کی بد نیتی اور بدبختی کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ احمدیت کے خلاف کارروائی میں نامراد ر ہیں گے۔یہ تو مجھے یقین ہے۔مگر کچھ تکلیف دہ یعنی دلوں کو زخمی کرنے والے پہلوا بھی بھی یہ اختیار کرسکتا ہے اور کرے گا۔اس لئے جب تک الہی تقدیر (امام) فاتح کے ساتھ اس کا بھی قلع قمع نہ کرے اس وقت تک ہمیں کچھ احتیاط کرنی ہے اور ان کی واپسی کے متعلق کچھ امور دیکھنے ہیں لیکن امید رکھتا ہوں کہ اگلے دو مہینے کے اندراندر یہ ساری باتیں طے ہو جائیں گی۔پس سب دنیا کی جماعتوں نے جو دعائیں کیں، جو فکر ظاہر کی آج کے خطبہ کے بعد میں اس مضمون کو ، اس باب کو بند کر رہا ہوں۔جو جواب اس امام کو دینے ہیں وہ ایک الگ مسئلہ ہے۔اس کا