خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 686 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 686

خطبات طاہر جلد 16 686 خطبہ جمعہ 12 ستمبر 1997ء اندراندر گیمبیا کی تمام سازش جو دھیمی دھیمی سی چل رہی تھی ، کلیۂ ملیامیٹ کر دی گئی۔اب جہاں تک اس چکی کے چلنے کا تعلق ہے مجھے اس میں کوئی بھی شک نہیں کہ یہ جو مذہبی امور کا وزیر بنا پھرتا ہے یہ گندا انسان ہے اس نے صدر جامع کو بھی ہمیشہ غلط رستے پر چلایا ہے اور غلیظ زبان اور جھوٹ بولنا اور خود اٹھانا اور خودگرانا یہ اس صاحب کی سرشت میں داخل ہے۔اس لئے دو شخص واضح طور پر جو ملوث ہوئے ہیں مباہلے میں ایک امام فاتح اور ایک یہ۔ان کے متعلق اپنی دعا ئیں جاری رکھیں۔یہ چکی جو چل پڑی ہے اب یہ چلتی رہے اور سب دنیا دیکھے اور خصوصاً گیمبیا دیکھے کہ یہ سب بکواس ہے جوان لوگوں نے کی اور سیمبین مزاج کا اس چیز سے کوئی تعلق نہیں۔اب سنئے ان ڈاکٹروں کی بات جن کو ہم نے مجبور ا نکالا تھا۔جب نکالا تو ان کی اس کارروائی کے جاری ہونے سے پہلے اشارہ بھی علم نہیں تھا کہ ان لوگوں کی خباثت ختم ہو چکی ہے۔مجھے شدید گھبراہٹ ہوئی ہے تہجد کی نماز میں اور میں نے فیصلہ کیا کہ فوراً کم سے کم دو ڈاکٹروں کو واپس بھیجوانا چاہئے کیونکہ ایک غریب ملک سے، جن کو عادت ہو احمدی ہسپتالوں سے فائدہ اٹھانے کی ، ہمارا یہ سلوک کہ ان کو لازمی طبی سہولت سے محروم ہونا پڑے جب کہ ان کی طرف سے کوئی شکوہ نہیں یہ سراسر زیادتی ہے اور حکومت کے ساتھ جو اختلاف ہے وہ اپنی جگہ ہوگا لیکن یہ جائز نہیں۔چنانچہ میں نے صبح ہی وکیل التبشیر صاحب کو ہدایت کی کہ فوری طور پر لئیق صاحب کو اور پاشا کو ابھی فون کریں کہ وہ جلد سے جلد واپس گیمبیا پہنچیں۔اگر ان کی جان کو خطرہ ہے تو اس کی کوئی پرواہ نہیں، نہ ان کو خطرہ کا احساس ہونا چاہئے۔یہ میرے عزیز بھی ہیں مجھے پیارے ہیں مگر مجھے بھی کوئی پرواہ نہیں ہے کیونکہ یہد الہی کام ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہر خطرے کو محسوس کرنے کے باوجود جو خدمت اللہ کے نام پر ہم نے شروع کی ہے اس سے پیچھے نہ نہیں۔چنانچہ فورا ان کی طرف سے یہ جواب آیا کہ ہمارے دل میں تو پہلے ہی اٹھ رہا تھا ، ہم تو چاہتے تھے کہ آپ سے اجازت لیں کہ ہمیں دوبارہ جانے دیں۔چنانچہ ان دونوں کی واپسی کا فیصلہ ہوا اور یہ میرا اعلان ان کی ان حرکتوں سے پہلے گیمبیا میں کر دیا گیا اور گیمبیا کے عوام نے ان کے جانے پر جو رد عمل دکھایا وہ یہ تھا کہ سارے ملک کے عوام بھی اور خواص بھی حکومت کے آدمی بھی اور حکومت سے باہر بھی یک زبان گلیوں میں نکل آئے۔انہوں نے اپنی حکومت کو مخاطب کر کے مجرم قرار دیا کہ تم اپنے سفا کا نہ اور بے حیا رویہ کی وجہ سے ذمہ دار ہو کہ ایسے شریف لوگوں کی سینتیس (37) سالہ خدمت کو تم نے نظر انداز کر دیا اوران