خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 685
خطبات طاہر جلد 16 685 خطبہ جمعہ 12 ستمبر 1997ء صدر جامع کی طرف سے جو اخباری اعلانات اور تمام محکموں کو تحریری ہدایتیں دی گئی ہیں ان کی کا پیاں ہمیں ملی ہیں ان میں خلاصہ یہ باتیں ہیں۔اول امام فاتح ایک انتہائی خبیث اور بدفطرت انسان ہے اس نے جو کچھ بکو اس کی اپنے طور پر کی۔اپنے طور پر کر ہی نہیں سکتا تھا جب حکومت کے سارے ادارے اس کو اٹھا رہے تھے مگر بہر حال اعلان اب یہ ہے اور گیمبیا کی حکومت کا اس سے کوئی بھی تعلق نہیں۔اس لئے تمام ادارے جو نشر و اشاعت سے کوئی تعلق رکھتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ آج کے بعد اس بد بخت امام کی کوئی بات بھی آپ آگے بیان نہیں کریں گے نہ ریڈیو پر نہ ٹیلی ویژن پر، نہ مسجد سے، نہ مسجد سے باہر۔اس کا آئندہ کبھی کوئی بیان ملک گیمبیا میں شائع نہیں کیا جائے گا۔اس کے علاوہ یہ ہدایت تھی کہ احمدی مسلمان ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت گیمبیا میں ان کو غیر مسلم قرار نہیں دے سکتی اور یہ اعلان تھا کہ احمدیوں کو اب ہمارے ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر بطور مسلمان اپنا مؤقف پیش کرنے کی ہمیشہ اجازت ہوگی۔انہوں نے کہا جتنا یہ فساد تھا یہ اس طرح بنایا گیا اور ہم ہر اس کوشش کو ذلیل اور نامراد سمجھتے ہیں جو گیمبیا کو پھاڑنے کی کوشش ہے۔یہ سیکولر حکومت ہے۔اس میں اسلامی تعصب کو دخل دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سب شہری برابر حقوق رکھتے ہیں اور احمدی مسلمان ہیں یہی حکومت کا مؤقف ہے اور بطور مسلمان ان سے یمبین سلوک کریں گے۔یہ ایک ہفتہ کے اندراندر ہونے والے واقعات ہیں۔پچھلے جمعہ جو میں نے بیان کیا تھا کہ اب دنگل چل پڑا، اس دنگل کا نتیجہ آپ کو دکھا رہا ہوں اور ضیاء الحق کی طرح جس کی یہ (امام) نقالی کر رہا تھا ہفتہ نہیں گزرا کہ خدا کی پکڑ نے اس کو پارہ پارہ کر دیا۔اب یہ جگہ جگہ بولتا پھرتا ہے کہ مجھے تو اس وزیر نے مروا دیا۔میں کہاں ایسی باتیں کرنے والا تھا یہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا۔مجھے غلط خبریں دی گئیں اور میرا یہ حال کر دیا گیا ہے۔اگر اس شخص میں کوئی حیا اور غیرت ہو تو اسی ملک کو واپس چلا جائے جہاں سے آیا تھا اور اب بعض اخباروں نے یہی مطالبہ شروع کر دیا ہے۔وہ کہتے ہیں اس امام کے لئے اب کوئی راہ نہیں سوائے اس کے کہ اپنے آبائی وطن لوٹے اور ہمارے گیمبیا کو اپنے غلیظ بدن سے پاک کر دے۔یہ مباہلے کی تقدیر ہے جو ظاہر ہوئی اور جو فرضی بات نہیں تھی ، جس کے اوپر مجھے کامل یقین تھا اور میں آج آپ کو بتا رہا ہوں کہ اس طرح خدا تعالیٰ کی تقدیر میں کام دکھایا کرتی ہیں۔اس میں کسی فرض کا، کسی تصور کا، کسی خواہش کا کوئی دخل نہیں ہوا کرتا۔ناممکن کو ممکن کر دکھاتی ہیں۔ایک ہفتہ کے