خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 63
خطبات طاہر جلد 16 63 خطبہ جمعہ 24 /جنوری 1997ء نہیں مانی باپ کی کبھی دوسری ،کبھی ماں کی کوئی بات نہیں سنی ، اسی کو احتساب کہتے ہیں۔تو احتساب تو ایک بچہ بھی کرتا ہے اور بچے کے احتساب میں زیادہ معصومیت ہوتی ہے۔آپ بھی اس طرح احتساب کریں اس کے نتیجے میں لازم ہے کہ آنکھوں سے آنسو بھی بہیں گے اپنی ساری زندگی کے خلاء آپ کی آنکھوں کے سامنے گھوم جائیں گے بہت سی نیکیاں بجالاتے رہے مگر ایسے ہی جیسے صحرا میں بیج پھینک دیئے اور مڑ کے نہیں دیکھا کہ اگا بھی تھا کہ نہیں اور ا گا تھا تو کیا بنا اس کا۔تو انسان ساری زندگی اپنی نیکیاں اس طرح ضائع کرتا پھرے تو وہ خدا کو کیسے پائے گا جو روزے کی جزاء ہے۔پس رمضان شریف میں خصوصیت کے ساتھ اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تم احسان کا سلوک کروان معنوں میں کہ خدا کو سامنے رکھ لو اور یہ مضمون بھی آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا ہے۔فرمایا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر نیکی کی ایک جزاء میں نے بنارکھی ہے اور روزے کی جزاء میں ہوں تو وہ جو احسان کا مضمون میں نے آپ کے سامنے کھولا ہے اسی کی تصدیق فرما رہے ہیں آنحضرت یہ صرف خدا سامنے رہ جائے اور کچھ نہ رہے اگر اس طرح رمضان گزار و اور بالآخر صرف وہی رہے اور کچھ نہ رہے تو تم سمجھو کہ تم کامیاب ہو گئے ہو تمہاری ساری زندگی کامیاب ہوگئی ہے۔پھر جب خدا اپنے موحد بندے کو ملتا ہے تو پھر ساری کائنات اس بندے کو مل جاتی ہے کیونکہ خدا کا جو کچھ ہے وہ اس کا ہو جاتا ہے۔پس احادیث میں کوئی مبالغے نہیں ہیں جو فر مایا جاتا ہے کہ تم یہ کرو تو تمہاری ساری زندگی سنور گئی۔اس طرح سنورتی ہے مگر جو زندگی سنور جاتی ہے پھر وہ دوبارہ بدزیب ہونے کے لئے آمادہ ہی نہیں ہوتی یعنی اس زندگی میں صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی کہ سنور نے کے بعد دوبارہ داغدار ہو، یہ مضمون بھی اس کے ساتھ وابستہ ہے۔چنانچہ رمضان اچھا گزر گیا تو سال اچھا گزر جائے گا اس میں یہی اشارہ ہے دراصل کہ رمضان میں جو تم نے نیکیاں حاصل کی ہیں جن بدیوں سے نجات حاصل کی ہے وہ متقاضی ہیں ،اگر وہ مخلصانہ تھیں، کہ تمہارا سارا سال ان باتوں میں بالکل اسی طرح صاف ستھرا رہے۔لوگ یہ مضمون تو سوچتے نہیں، اجر کی طرف مائل رہتے ہیں اور ہر دفعہ احتساب کا معنی بھی اجر اور دوسری باتوں میں بھی اجر کی طرف دماغ ایسا اٹکا رہتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں ایک مہینہ، چند دن کی نیکیاں کر لو تو سارا سال اجر کھاتے رہو گے اور پھر جتنی بدیاں کرتی ہیں شوق سے کرو، رمضان کا اجر کافی ہو گا کہ تمہیں ان بدیوں