خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 682 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 682

خطبات طاہر جلد 16 682 خطبہ جمعہ 12 ستمبر 1997ء کیا ہے اور اس توڑ سے متعلق پہلے سے میرے دل میں کس قدر یقین تھا۔ وکیل التبشیر صاحب کو میں نے بار بار کہا، میں نے کہا آج میں نے خطبہ میں ذکر کرنا ہی کرنا ہے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ اس سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ ہماری پریشانی دور نہ فرمادے۔ اس سے ایک رات پہلے مذہبی امور کے وزیر جو بہت شریف النفس انسان ہیں ان کے دل میں خدا تعالیٰ نے یہ بات ڈالی اور ہم نے نہیں کہا، اشارہ بھی نہیں کیا۔ ان کے دل میں خدا تعالیٰ نے یہ بات ڈالی کہ یہ معاملہ ایسا ہے کہ لازماً پریذیڈنٹ کے نوٹس میں لانا چاہئے ۔ وہ آئیوری کوسٹ کے پریزیڈنٹ سے ملے اور چونکہ ان کے ساتھ ان کا احترام کا ذاتی تعلق بھی ہے، انہوں نے پریذیڈنٹ سے کہا کہ یہ کیا ہوا ہے وہاں۔ میں ان لوگوں کو جانتا ہوں شریف النفس لوگ ہیں ۔ ان کا سارا کردار آئیوری کوسٹ میں نہایت معزز کردار ہے۔ میں مذہبی امور کا وزیر ہوں میں ذاتی گارنٹی دیتا ہوں۔ جب اس نے بتایا تو اس نے کہا اچھا یہ بات ہے تو پھر یہ معاملہ حل نہیں ہو گا جب تک تم وزیر خارجہ سے نہ ملو کیونکہ دراصل وہ اس کو کنٹرول کر رہا ہے اور وزیر خارجہ کو گیمبیا کی طرف سے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ کچھ Terrorist آرہے ہیں ان کو سنبھال لو، بعد میں نہ کہنا اور وہ چونکہ احمدیوں کو جانتا نہیں تھا اس لئے اس کے دل میں یقین تھا۔ اسی نے پریزیڈنٹ کو بتایا۔ اسی نے پریزیڈنٹ سے یہ اجازت لی کہ ان کو روکے رکھا جائے اور بالآخران کا خیال تھا کہ واپس کر دیں گے۔ تو خدا تعالیٰ نے نہ صرف اس سازش کو توڑا بلکہ جمعہ سے پہلے جیسا کہ میں نے ان کو یقین دلایا تھا جمعہ کی صبح کو آٹھ بجے بڑی عزت اور احترام کے ساتھ بسوں نے اس سارے قافلے کو اٹھایا اور جماعت نے جو جگہ تیار کی تھی وہاں پہنچادیا اور خدا تعالی کے فضل کے ساتھ وزیر خارجہ کے حکم پر ان کا دو مہینے کا جو ویزہ لگا تھا یہ اس میں ہدایت تھی کہ اسی طرح دو مہینے کا ویزہ ہوگا کوئی جلدی نہیں ان کو نکلنے کی ، یہ وہیں رہیں گے اور یہ صورتحال ہمارے لئے نہ صرف مفید بلکہ ضروری تھی کیونکہ اس رؤیا کے پیش نظر میں نے اپنے ایک فیصلے کو بدلا تھا۔ پہلے میرا فیصلہ تھا کہ ان کو انگلستان بلا لیا جائے ، کچھ کو پاکستان بھجوا دیا جائے اور کچھ کو یہیں کچھ دیر رکھ کے تو پھر سوچا جائے ۔ اس رویا کے بعد مجھے یقین تھا کہ چونکہ واپسی ہونی ہی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ان کو افریقہ کے ممالک میں رکھا جائے اور ہم نے تقسیم کر دی تھی مگر دو مہینے آئیوری کوسٹ ٹھہرنے کی ضمانت کے بعد میرا خیال تھا کہ ہو سکتا ہے یہیں سے اکثر کی واپسی ہو۔ اس مباہلے کا اور اس دوران جو واقعات پیش آئے ہیں ان کا یہ پس منظر ہے۔