خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 678
خطبات طاہر جلد 16 678 خطبہ جمعہ 12 ستمبر 1997ء مباہلہ قبول کرتا ہوں۔22 اگست کے خطبہ میں اس نے مباہلہ قبول کیا تھا۔میں اس وقت سفر پر تھا۔عمداً میں نے اسے آپ کے سامنے نہیں پیش کیا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی تائیدی نشان بھی ظاہر ہو جائے اور یہ بات کھل کر سامنے آنے سے پہلے ہم اپنے ان احمدی معصوم خدمت گاروں کو وہاں سے نکال لیں تاکہ اس کے بعد اگر کوئی شرارت ہوئی ہو تو ان کو کوئی زک نہ پہنچے۔یہ دو دو مصلحتیں تھیں لیکن گزشتہ خطبہ سے پہلے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا مباہلے کا اپنا اطمینان اپنی جگہ تھا مگر احمدیوں کے نکلنے کی بے چینی اور گھبراہٹ نے اس بے چینی کی جگہ لے لی تھی اور چونکہ وزیر مذہبی امور، وزیر برائے اندرونی امور یعنی وزیر داخلہ بار بار کھلم کھلا احمد یوں کو اور سب ہمارے کام کرنے والوں کو قتل کی دھمکیاں دے رہا تھا اور بظاہر اعلان یہ کروا رہا تھا کہ احمدیوں کی جان کو اگر کوئی خطرہ ہے تو ہم ان کی مدد کریں گے۔یہ ایسی خبیث ایک حرکت تھی جو سازش کا ایک حصہ تھی یعنی ظاہر یہ کرنا چاہتے تھے کہ احمدی ملک کے عوام کا نشانہ بن چکے ہیں احمدی گلیوں میں آزادانہ پھر نہیں سکتے ان کو ہر طرف سے خطرہ ہے اور خطرہ پیدا کرنے والا خود جوان کو دھمکیاں دے رہا تھا وہ دوسری طرف سے اعلان کروا رہا تھا کہ خطرہ ہے تو ہمارے پاس آئیں ، ہم احمدیوں کی جان مال کی حفاظت کریں گے۔یہ شرارت نقالی تھی پاکستان کی جہاں بھٹو کے دور میں حقیقۂ احمدیوں کے لئے خطرات تھے اور بعد میں حکومت نے اپنے فیصلے کو ان خطرات کا ایک طبعی نتیجہ بیان کیا کہ چونکہ ان کو خطرات تھے، باہر کی حکومتوں کے سامنے یہی بات پیش کی کہ چونکہ ان کو خطرے تھے ، ہم نے مجبوراًوہ دباؤ قبول کر لیا تاکہ ان کی جان و مال کو کوئی خطرہ نہ رہے۔یہ الگ قصہ ہے کہ بعد میں کیا ہوالیکن وجہ یہ تھی اور یہی وجدان کو پہنچائی اور سمجھائی گئی کہ تم نے عامتہ الناس پر یہ اثر ڈالنا ہے کہ احمدیوں کو بڑا شدید خطرہ ہے اور حکومت بار بار بتا رہی ہے کہ ہم اس خطرے کا مقابلہ کریں گے اور اب یہ خطرہ اس حد تک گویا بڑھ چکا ہے کہ اس سے زیادہ ہم احمدیوں کو سنبھالنے کا وعدہ نہیں کر سکتے ، لازم ہے کہ عوامی دباؤ قبول کرتے ہوئے ان کو اسلام سے خارج کیا جائے اور ملاں نے جو جو مطالبے کئے ہیں ان کو قبول کر لیا جائے۔یہ بھیانک سازش تھی جو اپنے پر پرزے نکال رہی تھی اور اسی کے مقابلے کے لئے میں چاہتا تھا کہ یہ مباہلہ قبول کرے تا کہ خدا تعالیٰ کی طاقتیں کھل کر اس کے سامنے آئیں اور اس کی ہر سازش کے ٹکڑے اڑا دیں۔جب یہ ہو چکا تو جیسا کہ میں نے بیان کیا مجھے نکلنے والوں کی فکر تھی۔میں چاہتا تھا جمعہ سے