خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 675 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 675

خطبات طاہر جلد 16 675 خطبہ جمعہ 12 ستمبر 1997ء ملاؤں نے کی اور ان سب باتوں کا مدلل حوالوں کے ساتھ مزین جواب دیا جا چکا ہے لیکن چونکہ گیمبیا کو سنانا ضروری ہے اس لئے گیمبیا میں میں نے ہدایت کی ہے کہ ہر جگہ زیادہ سے زیادہ جہاں جہاں بھی جماعتیں ہیں ڈش انٹینا نصب کئے جائیں، ٹیلی ویژنز لگائی جائیں اور ہمارے جواب وہ سارے لوگ براہ راست مرکز سے سنیں۔اس کے سوا اب اور کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی کہ ہم کلی ان ساری باتوں کا جواب سارے گیمبیا کومدلل طریق پر سمجھائیں اور اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مجھے یقین ہے کہ اب وہ نیا دور شروع ہو گا جب گیمبیا تیزی کے ساتھ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی طرف دوڑے گا۔فاتح صاحب کا تعارف یہ ہے کہ یہ والد کی طرف سے گمنام ہیں۔ان کی ماں ان کو گنی بساؤ سے لائی۔یہ گیمبیا کے باشندے ہی نہیں ہیں اور اس وقت سے آج تک ان کے باپ کا کچھ پتا نہ بتایا گیا نہ کسی کو معلوم ہے اسی لئے ان کے نانا وغیرہ کی باتیں ہوتی رہی ہیں ان کے دادا کی کوئی بات میں نے بیان کی ، نہ میرے علم میں ہے۔محلے میں کئی قسم کی چہ میگوئیاں ہوتی رہتی ہیں اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔یہ نامناسب بات ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ ان کے باپ کا کوئی علم کسی کو نہیں۔1996ء میں ان کو سٹیٹ ہاؤس میں امام مسجد خانہ کعبہ کے کہنے پر مقرر کیا گیا تھا۔اس نے گویا اپنا نمائندہ یہاں چن کر ایک دلال کے طور پر رکھا۔16 جون، جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، اس وقت سے لے کر 22 اگست تک اس کے خطبات میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف جو گند بکا گیا ہے تکلیف تو ہوتی ہے وہ بیان کرتے ہوئے ،مگر اس کا خلاصہ بیان کرنا ضروری ہے۔جو یہ گند بکتا رہا ہے اس میں پہلی بات یہ کہ احمدی غیر مسلم ہیں اور واجب القتل ہیں یہ تمام مسلمانوں کا متفقہ فیصلہ ہے“۔یہ بات اب امام فاتح سے اپنا دامن چھڑا کر الگ کرنے کے لئے وزیر مذہبی امور اس سے کلیۂ لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں حالانکہ قطعی طور پر ثابت ہے کہ وہ مسلسل اس بارے میں نہ صرف امام فاتح کی تائید کرتارہا بلکہ جو بھی احمدی وفود اس کو ملے ہیں انہیں بلا استثناء براہ راست قتل کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔دوسری بات یہ ، جیسا کہ وہ ہمیشہ کہتے ہیں، کہ احمدی انگریزوں اور یہودیوں کا خود کاشتہ پودا ہیں۔یہ سعودی نو از علماء کی بکواس ہے جس کا ٹھوس جواب پہلے دیا جا چکا ہے اور اب پھر دیا جائے گا اور بتایا جائے گا کہ اس امام اور سعودی امام جو اس کے ساتھ ہے، اس کے آقا انگریزوں کی اور یہودیوں کی مشترکہ پیداوار ہیں اور قطعی کتابوں کے حوالے سے دکھایا جائے گا کہ یہ بات فرضی الزام