خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 646
خطبات طاہر جلد 16 646 خطبہ جمعہ 29 راگست 1997ء نقصان پہنچانے سے باز نہیں آئیں گے۔وہاں خدا کا کلام ہے جو بول رہا ہے اور خدا کا خوف ان معنوں میں ہے کہ خدا تعالیٰ جب قانون جاری کر دیتا ہے کہ ایک چیز سے تمہیں نقصان ہوگا تو وہ قانون لازماً کام کرتا ہے اور وہ شخص جو سانپ کے منہ میں انگلی دے گا یا آگ میں ہاتھ ڈالے گا اگر آگ جلاتی ہے تو ذاتی فعل کی وجہ سے نہیں بلکہ خدا کے منشاء کے تابع جلاتی ہے۔اگر سانپ ڈستا ہے تو خدا کے حکم کے تابع یعنی ان معنوں میں کہ اس کو ڈسنے کی جبلت عطا ہوئی ہے، اس کی خصلت میں ڈسنا رکھ دیا گیا ہے اور اس کی مجال نہیں ہے کہ اس سے انحراف کرے۔پس قوانین قدرت سے خوف جب وہ بے رعایت اور بے دھڑک ہر نیک و بد پر اثر انداز ہوتے ہیں دراصل ان قوانین کو جاری کرنے والے کا خوف ہے اور ان قوانین سے ان قوانین کے بنانے والے یعنی خدا تعالیٰ کا رعب اور دبدبہ ثابت ہوتا ہے۔اگر غور کریں تو آپ کو قانون قدرت کی یہی حکمت سمجھ آئے گی کہ خدا نے قانون قدرت کو دو طرح کی خاصیتیں بخشیں ، ایک منفی اثرات اور ایک مثبت اثرات۔اگر انسان قانون کی منفی طاقتوں کو نظر انداز کرے تو وہ لازماً اس کو سزا دیں گی۔یہ قوانین خود کار مشینوں کی طرح چلتے ہیں اور سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کی قدرت خاصہ ان کو عمل سے روک رکھے یہ اپنے عمل میں نیک و بد میں کوئی تمیز نہیں کرتے۔ان غالب اور مقتدر قوانین کا خوف دراصل ان کا خوف نہیں ہے بلکہ وہ قانون جاری کرنے والے کا خوف ہے جس کے قانون کے تابع ایک چھوٹے سے چھوٹا ادنی کیڑا بھی اسی طرح حرکت کرے گا جیسے بڑے سے بڑا جانور اور خوفناک سے خوفناک چیز یا زلزلے یا طوفان اپنا اثر دکھاتے ہیں۔یہ اثر دکھانا خدا کے منشاء کے تابع روز مرہ دکھائی دیتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو خوف کی مثال بتاتے ہوئے دکھا دیا ہے کہ خوف کیا چیز ہے۔خوف تو خدا کا ہے مگر ظاہر ہوا اس کی تخلیق میں سے اور اس کی تخلیق کے صحیح استعمال کے ساتھ وہی چیز جو نقصان پہنچا سکتی ہے فائدہ بھی پہنچادیتی ہے اور بڑے بڑے حکماء نے جو شریر سے شریر جانور ہیں ان کے فوائد بھی گنائے ہیں اور قانون قدرت میں ایک جاری فائدہ بھی وہ دے رہے ہیں اور انسان بھی جب چاہے ہر بداثر رکھنے والی چیز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور یہ مثبت چیز بھی خدا تعالیٰ ہی کے حکم کے تابع ہے اس سے وہ چیز گریز نہیں کرسکتی۔یہ مطلب گناہوں سے تو بہ کا کہ آپ فرماتے ہیں قانون قدرت جو روحانی ہے وہ بھی اسی طرح