خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 645 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 645

خطبات طاہر جلد 16 645 خطبه جمعه 29 راگست 1997ء کام کو جلد پورے کر کے وہاں سے بھاگے۔پس گناہ پر دلیری کی وجہ بھی خدا کے خوف کا دلوں میں موجود نہ ہونا ہے لیکن یہ خوف کیونکر پیدا ہو اس کے لئے معرفت الہی کی ضرورت ہے۔جس قدر خدا تعالیٰ کی معرفت زیادہ ہوگی اسی قدر خوف زیادہ ہوگا۔ہر کہ عارف تر است ترساں تر 66 ہر وہ شخص کہ عرفان رکھنے میں زیادہ ہے وہ خوف میں بھی زیادہ ہو گا۔“ یہ پہلو ہے جس کے اوپر بہت غور کی ضرورت ہے اور اس مضمون کو سمجھنا لازم ہے کیونکہ آگے جا کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے ہیں کہ انسان ادنی کیٹروں سے بھی ڈرتا ہے جیسے پسو اور مچھر کی جب معرفت ہوتی ہے تو ہر ایک ان سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔پس کیا وجہ ہے کہ خدا جو قادر مطلق اور علیم و بصیر ہے اور زمینوں اور آسمانوں کا مالک ہے اس کے احکام کے برخلاف کرنے میں یہ اس قدر جرات کرتا ہے۔سوال یہ ہے کہ خوف الہی اور جانور اور بیماری کا خوف کیا یہ ایک ہی چیز ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب خوف الہی کی مثال دیتے ہیں تو جانوروں کی مثال دے رہے ہیں، مچھروں کی مثال دے رہے ہیں، پسو کی مثال دے رہے ہیں، بلی اور دانہ کھانے والے پرندوں کی مثال دیتے ہیں تو کیا آپ اس سے یہ سمجھے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی بھی ایسی ہی صفات ہیں جیسے بلی، بچھو، کیڑے مکوڑے اور ان سے خوف رکھنا اور خدا کا خوف رکھنا ایک ہی چیز کے دو نام ہیں؟ اگر ہیں تو پھر ہمارا خدا کس قسم کا خدا ہے جو کبھی پسو کے طور پر دکھائی دے گا، کہیں بندروں کے طور پر، کہیں مچھروں کے طور پر۔یہ وہ نکتہ ہے جسے میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ خوف الہی کی حقیقت یہاں سے کیا ظاہر ہو رہی ہے۔حیرت کی بات ہے آپ سنیں تو شاید آپ کو تعجب ہو کہ امر واقعہ یہ ہے کہ ان جانوروں ہی میں اللہ کی معرفت ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ خدا کی وہ تقدیر ظاہر کر رہے ہیں جو قانون قدرت کے طور پر رائج ہے جسے ہم دیکھ سکتے ہیں۔ایک مچھر کے یا پسو کے کاٹنے سے جو طبعی بدنتیجہ ظاہر ہوگا یہ قانون قدرت کی مطابقت میں ہے اور ہر قانون کے ساتھ خدا تعالیٰ نے کچھ مضرات لگا دیئے ہیں، کچھ فوائد رکھ دئے ہیں اور وہ قوانین جن کو اس طرح استعمال کیا جائے کہ وہ نقصان دہ ہوں وہ کبھی بھی