خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 644
خطبات طاہر جلد 16 644 خطبہ جمعہ 29 راگست 1997ء ایک روز مرہ حقیقت ہے ہر انسان اسے دیکھتا ہے مگر اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔جانور تو جانور ہے مگر اس کے باوجود اس کو اپنی جان پیاری ہے۔اب اسے علم ہو کہ دانے کے ساتھ ایک خوف لگا ہوا ہے تو کبھی دانے پہ منہ نہیں مارے گا خواہ کیسی ہی بھوک ستائے۔پس جبکہ لا یعقل حیوان بھی خوف کے ہوتے ہوئے پر ہیز کرتے ہیں تو انسان جو عقلمند ہے اسے کس قدر خوف اور پر ہیز کرنا چاہئے۔یہ امر بہت ہی بدیہی ہے کہ جس موقع پر انسان کو خوف پیدا ہوتا ہے اس موقع پر وہ جرم کی جرات ہر گز نہیں کرتا۔“ اب ہم نے دیکھا ہے بہت لوگوں کو یورپ میں عادت ہے کہ وہ Speed Limit کی پابندی نہیں کر سکتے اور یہ ایک ایسا جرم ہے جو ایک عام دستور بن گیا ہے، اس جرم میں سب ہی شامل ہیں۔کوئی بڑھا، کمزور جس کو تیز چلانے سے ڈر لگتا ہو وہ اس وجہ سے رکے گا۔سپیڈ کی پابندی جو حکومت نے لگائی ہے اس وجہ سے نہیں رکھتا۔مگر سب تیز رفتار کار میں جارہی ہیں اور اچانک سب آہستہ ہونے لگ جاتی ہیں اور کچھ آگے جا کے پتا چلتا ہے کہ پولیس کی کار کھڑی تھی۔دیکھو پولیس کے خوف سے ایک چھوٹا سا جرم جو روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے اس سے بھی انسان پر ہیز کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: جس موقع پر انسان کو خوف پیدا ہوتا ہے اس موقع پر وہ جرم کی جرات ہرگز نہیں کرتا۔“ اس مضمون کو آگے بیماریوں کے تعلق میں بھی بیان فرماتے ہیں ” مثلاً طاعون زدہ گاؤں میں اگر کسی کو جانے کو کہا جاوے۔ایسا گاؤں جس میں طاعون پھیلا ہو۔اس زمانے میں جب طاعون پھیلا ہوا تھا سوائے احمدیوں کے کوئی طاعون زدہ گاؤں میں جانے کی جرات نہیں کیا کرتا تھا۔تو کوئی بھی جرات کر کے نہیں جاتا حتی کہ اگر حکام بھی حکم دیں تو بھی ترساں اور لرزاں جائے گا۔( یعنی حکام نے مجبور کر دیا کہ تم نے ضرور جانا ہے تو کانپتا ہوا، اپنی جان کے خوف سے لرزتا ہوا وہاں پہنچے گا ) اور دل پر یہ ڈر غالب ہوگا کہ کہیں مجھ کو بھی طاعون نہ ہو جاوے اور وہ کوشش کرے گا کہ مفوضہ