خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 639
خطبات طاہر جلد 16 639 خطبہ جمعہ 29 راگست 1997ء دلوں میں تحریک پیدا ہوئی ہے وہ انشاء اللہ آگے بڑھے گی۔اس دورے کے آخری حصے میں مجھے پیجیئم بھی جانا ہے لیکن اس سے پہلے میں ہالینڈ کا ذکر کرتا ہوں جہاں سے یہ خطبہ دے رہا ہوں۔اس دفعہ ہالینڈ کی جماعت کے لئے شاید یہ شکوے کا موقع ہو کہ ان کو کھلے طور پر یہاں آنے کی اجازت نہیں تھی یعنی دعوت نہیں دی گئی تھی۔سمجھایا گیا تھا کہ یہ دورہ، ہالینڈ کا دورہ خالصہ اردو کلاس کی دیکھ بھال کے لئے ہے اور اس معاملے میں جن ہالینڈ کے کارکنوں اور کارکنات کو معین طور پر کہا جائے صرف وہی خدمت کریں ورنہ اس سے پہلے تو جماعت کو کسی بلاوے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ہمیشہ جب بھی میں آتا تھا مغرب اور عشاء کی نمازوں کے بعد یہاں اکٹھے بیٹھتے تھے اور سوال و جواب کی مجالس چلتی تھیں اور آنا جانا ایک ہجوم سا چلا رہتا تھا ایک تانتا بندھا رہتا تھا ہر خاندان کا یا اکثر ان کا جو ملنے کی خواہش رکھتے ہوں اور آ بھی سکتے ہوں۔بہت سے ایسے بھی تھے جو آنہیں سکتے تھے کیونکہ قوانین کی مجبوریاں ہیں اب بھی ایسے ہوں گے مگر یہ سفر بالکل مختلف نوعیت کا تھا۔چنانچہ اکثر مانوس چہرے اور خاندان، ان کے بچے وہ اس دفعہ اس احترام میں یہاں نہیں تشریف لائے کہ ہمارے اردو کلاس کے لئے جو پروگرام ہیں ان میں مخل نہ ہوں اور یہ ان کی قربانی تھی لیکن جنہوں نے اردو کلاس میں یعنی اردو کلاس کو یہاں کا میاب بنانے میں حصہ لیا ہے ان کی اور بھی بڑی قربانی ہے کیونکہ تعداد میں اگر چہ بہت زیادہ نہیں تھے مگر دن رات محنت کی ہے۔امیر صاحب، ان کی بیگم، صدر خدام الاحمدیہ، ان کی بیگم، لجنہ اماءاللہ کی صدر اور حمید صاحب اور ان کی بیگم، یہ تو چند نام ہیں جو میں لے رہا ہوں ورنہ بہت سے نام ایسے ہیں جن کو لئے بغیر میرا ذہن شناخت کرتا ہے اور میں جانتا ہوں کہ انہوں نے بہت زیادہ محنت کی ہے اللہ تعالیٰ ان سب کو بہترین جزاء دے۔جہاں تک ان کی محنت کا تعلق ہے اس کی جزاء تو خدا ہی دے سکتا ہے مگر جہاں تک اردو کلاس کا ان لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا اور پھر نا ہے یہ بھی خود ان کی محنت کی ایک جزا تھی اور جتنے کارکن تھے ان میں سے ہر ایک خوشی محسوس کر رہا تھا کہ ہمیں موقع ملا اور ہمارے بچوں کو اس کلاس میں شامل ہونے کا موقع ملا اور یہ ن سپیٹ کا علاقہ سارا اردو کلاس کے نتیجے میں یوں لگتا تھا جیسے ایک غیر معمولی تقریب منائی جا رہی ہے۔سارا شہر ان بچوں اور بڑی بڑی لڑکیوں کو برقعہ پہنے سائیکل چلاتے دیکھ رہا تھا اور غیر معمولی طور پر وہ دلچسپی لیتے رہے اور اثر قبول کرتے رہے جن کی بعض اطلاعات تو معین ہمیں