خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 58
خطبات طاہر جلد 16 58 خطبہ جمعہ 24 /جنوری 1997ء توحید کا مظہر ہے۔جب دوسرے سب خدا مٹ جاتے ہیں، جب تمام تر توجہ خدا کی طرف ہو جاتی ہے اس وقت یہ احسان ہوتا ہے اس کے بغیر ہو نہیں سکتا۔تو مضمون وہی تو حید ہی کا مضمون ہے۔نماز کے دوران سوائے خدا کے کوئی چیز سامنے نہ رہے اور جب کوئی بڑا آدمی سامنے کھڑا ہو جس کے حضور آپ پیش ہورہے ہوں تو اس وقت در حقیقت دوسرے سب خیال مٹ جایا کرتے ہیں صرف حضوری کا خیال ہے جو انسان پر قابض ہو جاتا ہے۔پس شرک کے مضمون کی نفی اس احسان کے ذریعے فرمائی گئی جو حضور اکرم ﷺ نے نماز کے حوالے سے ہمارے سامنے کھولا۔تو احسان کا مضمون ہے تو وہی لیکن مختلف مواقع پر، مختلف صورتوں پر چسپاں ہو گا اور موقع اور محل کے مطابق اس کے معنی کئے جائیں گے۔پس یہ وہ دو باتیں ہیں جن کو پیش نظر رکھتے ہوئے اب آپ غور کریں اس حدیث پر کہ جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کے گناہ بخشے نہ گئے۔اب یہاں جو گناہ بخشنے والا مضمون ہے اس کا تعلق ایک اور حدیث سے بھی ہے جس میں اس کی تشریح فرمائی گئی ہے کہ رمضان کا مہینہ جب گزرتا ہے تو کیا ہونا چاہئے۔یہ چونکہ پہلی حدیث بھی رمضان کے مہینے سے تعلق رکھتی ہے یہ بھی رمضان کے مہینے سے خصوصیت سے تعلق رکھتی ہے اور یہ بخاری کتاب الصوم باب فضل من قام رمضان سے لی گئی ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص ایمان کے تقاضے اور احتساب کے ساتھ رمضان کی راتوں میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اس کے سارے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔اب یہاں لفظ احتساب استعمال ہوا ہے۔اصل الفاظ یہ ہیں من قام رمضان ايماناً واحتساباً غفر له ما تقدم من ذنبه _ لفظ احتساب کا ترجمہ جہاں جہاں بھی میں نے دیکھا ہے ہر جگہ ثواب کی نیت سے کر دیا گیا ہے۔”اجر کی نیت سے کر دیا گیا ہے جو اس موقع پر بالکل بے تعلق ترجمہ ہے۔اجر کی نیت سے تو آدمی ہر چیز کرتا ہی ہے اس میں کیا خلوص پایا جاتا ہے۔آپ تو جہاں تک ممکن ہوانگی بھی نہ ہلائیں اگر اجر کا مقصد نہ ہو۔آپ جب کان پہ خارش کرنے کے لئے بھی انگلی ہلاتے ہیں تو اجر ہوتا ہے جس کے پیش نظر آپ یہ کام کرتے ہیں ورنہ بیٹھے بیٹھے کیا ضرورت ہے حرکت کرنے کی۔تو اجر تو ایک عام چیز ہے۔اجر کی خاطر اگر ایسا کرو گے تو پھر تمہیں بخشا جائے گا