خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 630 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 630

خطبات طاہر جلد 16 630 خطبه جمعه 22 راگست 1997ء بظاہر اچھا کام کر رہے ہیں نمازیں پڑھتے ہیں لیکن یہ نماز میں ویل لاتی ہیں۔اس ویل سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اشارہ ایک قرآنی آیت کی طرف ہے فرمایا: فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُوْنَ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ (الماعون :85) مصلیوں پر لعنت ہو۔اب ہمارے ہاں تو مسکی کام کرنے والوں کو کہتے ہیں ان پر لعنت نہیں ہے۔ان پر لعنت ہے جو بظاہر خدا کا کام کرتے ہیں لیکن عملاً کام نہیں کر رہے۔الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ وہ لوگ جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عبادت کے اس مضمون کو کھولا ہے کہ پہلے دن سے ہی نماز کو بھرنے کی طرف توجہ دو۔اگر نماز نہیں بھرو گے تو یہ نماز تمہارے لئے ہلاکت کا موجب بن جائے گی۔ہم نے ایسی ہری بھری فصلیں دیکھی ہیں جو بڑے زور سے اوپر اٹھتی ہیں اور لگتا یہ ہے کہ اب زمیندار کا گھر دانوں سے بھر جائے گا مگر وہ ساری کی ساری فصلیں کھڑی ہی رہتی ہیں جھکتی نہیں اس لئے کہ ان کے اندر دا نہ نہیں پڑتا۔کچھ عرصے کے بعد وہ سفید دکھائی دینے لگتی ہیں۔پس یہ وہ فصلیں ہیں جو ویل کی آواز لگاتی ہیں۔فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ۔ایسی محنت کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہو کہ جن کو انجام کا راپنی محنت کا کوئی بھی شمر ہاتھ نہ آئے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ویل لاتی ہیں۔نماز تو وہ ہے جو اپنے ساتھ ترقی لے آوے۔پس رسم اور رسمی عبادت ٹھیک نہیں۔ہماری جماعت بھی اگر بیج کا بیج ہی رہے گی تو کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔جور دی رہتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو بڑھاتا نہیں۔پس تقویٰ عبادت اور ایمانی حالت میں ترقی کرو۔یادرکھو کہ نری بیعت اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا کچھ بھی سودمند نہیں۔اس دھو کے میں نہ رہو کہ ہم نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا ہے اب ہمیں کیا غم ہے ہدایت بھی ایک موت ہے جو شخص یہ موت اپنے اوپر وارد کرتا ہے اس کو پھر نئی زندگی دی جاتی ہے۔پس بیعت کا نام دراصل ایک موت ہے اور بہت کم ہیں جو یہ سمجھتے ہیں۔آپ ان کو کہیں یہ