خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 629 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 629

خطبات طاہر جلد 16 629 خطبہ جمعہ 22 راگست 1997 ء خالی تھیں کس قدران میں خلاء رہ گیا تھا جس پر شیطان حملہ آور ہوسکتا تھا۔پس عبادتوں میں بھی خلاء ہوتے ہیں اور ان خلاؤں کو شیطان بھرتا ہے ان پر حملہ آور ہوتا ہے اور وہاں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔پس یہ سارے مضامین وہ ہیں جو آغا ز ہی میں سمجھانے والے ہیں۔آپ بہت محنت کرتے ہیں تبلیغ میں اس میں کوئی شک نہیں لیکن وہ لمبی محنت اگر اس رنگ میں کریں جس رنگ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے تو آپ کی محنت نئے آنے والے کی محنت میں منتقل ہو جائے گی۔آپ نے جن جن باتوں کی نصیحت فرمائی ہے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان نصیحتوں کو آگے نو مبائعین میں منتقل کرنا اور ایسے رنگ میں منتقل کرنا کہ اپنی زندگی میں ایک انقلاب محسوس کرنے لگیں اور یہ احساس پیدا کریں کہ انہیں اب محنت کرنا ہوگی اور محنت خدا کے لئے کرنا ہوگی۔محنت اس لئے کرنا ہوگی کہ وہ اللہ سے ملیں اور اللہ کی ذات کا سفر اگر کوئی شخص شروع کر دے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کسی اور نظام کی اس کو سنبھالنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ان معنوں میں جن معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمارہے ہیں اگر نو مبائع خدا کی ذات میں سفر کے ارادے سے قدم اٹھائے اور داخل ہو کر اس سفر کے حالات پر نظر رکھے اور دیکھے کہ وہ کس حد تک خدا کا قرب اختیار کر رہا ہے تو پھر ایسے شخص کو سنبھالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔بسا اوقات ایسے شخص دوسروں کو سنبھالتے ہیں۔میں نے کئی نو مبائعین دیکھے ہیں جو جماعت کی کا ہلی اور ستی کی وجہ سے ٹھو کر نہیں کھاتے بلکہ جماعت کو ٹھوکروں سے بچانے والے بن جاتے ہیں۔وہ آگے بڑھتے ہیں ان کو کہتے ہیں دیکھو ہم نے تو پا لیا تم نے پاکے کیوں کھویا ہوا ہے تم سمجھتے ہو کہ تم نے پالیا مگر تم بالکل بے حاصل انسان ہو۔دیکھو ہم خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ میں آکر کیسی ترقی کر رہے ہیں یعنی ان معنوں میں نہ بھی کہیں تو ان کا ذہن کمزوروں کو سنبھالنے کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور وہ جو پہلے نو مبائع تھے وہ مبائعین کی تربیت کرنے کے اہل ہو جاتے ہیں۔فرماتے ہیں: سچی توبہ کی طلب ہی نہیں۔پس وہ پہلے قدم پر ہی رہتے ہیں ایسے انسان بہائم سے کم نہیں“۔(ایسے انسان جانوروں سے کم نہیں ) ایسی نمازیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ویل لاتی ہیں“۔ویل کا مطلب ہے ہلاکت۔پس