خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 626 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 626

خطبات طاہر جلد 16 626 خطبه جمعه 22 راگست 1997ء اب دیکھیں ہر روز دیکھنا چاہئے ، یہ نگہداشت کا حصہ ہے۔آپ میں سے وہ جو زمیندار ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ ہر روز اپنی کھیتی کو دیکھتا ہے، اس کی مختلف حالتوں کو دیکھتا ہے ،مختلف شیطانی بیماریاں جو اس کو لگ جاتی ہیں ان کو دیکھتا ہے۔زمیندار کھیتوں میں پھرتا ہے تو کچھ نوچ کے پھینک دیتا ہے، کہیں نیچے جھک کر جڑی بوٹی کو اکھیڑتا ہے۔ایک بہت ہی خاموش مضمون ہے جو آپ کو دور سے دکھائی دینے میں یوں لگے گا جیسے کوئی محنت نہیں ہے حالانکہ زمیندار جانتا ہے اور میں یہ جو کہ رہا ہوں میں اپنے ذاتی تجربے سے کہہ رہا ہوں۔میں نے زمینداری اس طرح کی ہے جس طرح ایک کسان اپنے کھیت کی پرورش کرتا ہے اس طرح میری عادت تھی کہ جب بھی مجھے موقع ملا میں کھیتوں میں جا کر خود کام کرتا تھا کیونکہ میرے کام کرنے کے بغیر وہ جھنگ کے جو عوام ہیں وہ کام کر ہی نہیں سکتے جب تک مالک ان کو کر کے نہ دکھائے اور ان کو یہ فکر لاحق نہ ہو کہ دیکھ لے گا۔اس طرح وہ کام نہیں کر سکتے۔تو اس مجبوری کی وجہ سے اور کچھ عادتاً کچھ اس سے مجھے دلچسپی بھی تھی۔میں نے اسی طرح کھیتوں کی آبیاری کی ہے خود پانی لگائے ہیں، نکے باندھے ہیں ان کی جڑی بوٹیوں کو اکھیڑ اکھیڑ کر پھینکا ہے۔جب مونجی لگائی جارہی ہوتی تھی تو ساتھ ان کے پودے پکڑ کر جھک جھک کر لگا کر دکھاتا تھا کہ اتنے اتنے فاصلے پر لگنے چاہئیں۔اگر چہ اتنی طاقت نہیں تھی جتنی وہاں کی بعض قوموں میں ہے کہ وہ بار بار جھک کر مونجی لگاتے ہیں مگر اتنا کرنے میں بھی کمر دوہری ہو جایا کرتی تھی اور اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ مجھے پتا لگ جاتا تھا کہ یہ مزدور محنت کش کتنی مصیبت اٹھاتے ہیں۔آپ کے لئے چند پیسوں کے لئے کتنی بار بار ان کو مصیبت کرنی پڑتی ہے۔اس لئے جہاں ایک طرف ان کے لئے راہنمائی بنتی تھی دوسرے میرے دل میں ان کے لئے نرمی پیدا ہوتی تھی ، ان کو ان کے اجر سے زیادہ دینے کی خواہش پیدا ہوتی تھی۔تو اس طرح زمیندارہ جس نے کیا ہے اس کو یادرکھنا چاہئے کہ دین کا کام بھی زمیندارہ ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام حارث رکھا گیا اور آپ کی مثال بھی قرآن کریم نے ایک کھیتی سے دی ہے۔یہ سارا مضمون بعینہ آپ پر اطلاق پا رہا ہے یعنی جماعت احمدیہ پر اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو آپ کو سکھا رہے ہیں اس کے ساتھ چلتے ہوئے میں بھی آپ کو بتارہا ہوں کہ آپ کو خود ساتھ ساتھ محنت کرنی ہوگی۔نو مبائعین خود نہیں جانتے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔انہیں کچھ قدم آگے